دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 361
361 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 10/ اگست کی کارروائی اس روز صبح کی کارروائی کے دوران زیادہ تر پرانے حوالوں پر ہی بات ہوئی۔ان کو چیک کر کے اسمبلی میں ان کی صحیح اور مکمل عبارت سنائی گئی۔اس کے علاوہ ایک مرتبہ پھر یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ الفضل کے کچھ شماروں سے کچھ عبارتیں پیش کر کے اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔حضور نے فرمایا کہ جب ہم نے جائزہ لیا تو ان شماروں میں یہ عبارتیں موجود ہی نہیں تھیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی تک قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جعلی حوالے پیش کر کے جماعت کے خلاف جذبات بھڑکائے جا رہے تھے۔ایک روز پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے حوالہ پیش کیا تھا کہ 16 / جولائی 1949ء کے الفضل کے مطابق حضرت خلیفة المسیح الثانی نے فرمایا تھا کہ دشمن محسوس کرتا ہے کہ ہم اگر ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی تو ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے انکشاف فرمایا کہ ریکارڈ کے جائزہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس روز الفضل کے شمارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا کوئی خطبہ یا مضمون شائع ہی نہیں ہوا۔اب یہ صورتِ حال سامنے آ رہی تھی کہ ایک عبارت پیش کر کے ممبران اسمبلی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ احمدی ان کے مذہب کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حقیقت یہ سامنے آئی کہ یہ حوالہ بھی جعلی نکلا۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب کے لئے یہ ایک اور دھچکا تھا۔اس انکشاف کے بعد انہوں نے کچھ بے یقینی کے عالم میں کہا:۔یعنی کہیں نہیں چھپا کہ تاریخ میں کوئی فرق ہو گیا ہے؟ کیونکہ یہ نہ ہو کہ پھر وہ بیچ میں تاریخ کسی اور کا آجائے۔بعض دفعہ پر ملنگ میں غلطی ہو جاتی ہے۔" وو اٹارنی جنرل صاحب کے یہ جملے پڑھتے ہوئے کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔وہ ایک سینیئر وکیل تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ جب کوئی شخص کوئی حوالہ پیش کرتا ہے کہ تو یہ اس کا فرض ہے کہ