دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 362 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 362

362 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وہ اس کا ثبوت مہیا کرے، نہ کہ جس پر اعتراض کر رہا ہے اس سے یہ لایعنی فرمائش کرے کہ اب تم ہی یہ حوالہ ڈھونڈ کر لاؤ تا کہ میں تم پر اعتراض کر سکوں۔اگر ان کے مطابق حوالہ دیتے ہوئے تاریخ غلط ہو گئی تھی تو یہ قصور ان کا تھا اور ان کے ساتھ کام کرنے والے مولوی صاحبان کی ٹیم کا تھا اور ان سے یہ غلطی بار بار ہو ری تھی۔ابھی ممبران اسمبلی جو منصف اور فریق دونوں کا کردار ادا کر رہے تھے اس صدمہ سے سنبھلے نہیں تھے کہ ان کے لئے ایک اور پریشانی کا سامان پیدا ہو گیا۔9 اگست کی کارروائی کے دوران بیٹی بختیار صاحب نے 3 / جولائی 1952ء کے الفضل کا حوالہ پیش کیا تھا کہ اس میں لکھا ہے:۔۔ہم فتح یاب ہوں گے۔ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔" یہ حوالہ پیش کرنے کا مقصد واضح تھا اور وہ مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو بھڑ کا یا جائے کہ کہ احمدی تمہیں اپنا محکوم بنانے کی تیاری کر رہے ہیں اور تمہیں ابو جہل کی طرح سمجھتے ہیں۔حضور نے گزشتہ حوالے کے بعد اس کے متعلق بھی انکشاف فرمایا کہ یہ بھی جعلی نکلا ہے۔اس شمارے میں یہ عبارت موجود ہی نہیں۔عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب سپیشل کمیٹی میں کوئی وضاحت پیش کرتے کہ وہ اور ان کی ٹیم اتنے کم وقت میں اتنی زیادہ غلطیاں کیوں کر رہے ہیں؟ آخر کیا ہو رہا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا حوالہ جعلی ثابت ہو رہا ہے۔لیکن انہوں نے کیا کیا؟ اسی ذکر کے دوران حضور نے فرمایا کہ ہم ایک غریب جماعت ہیں۔اس لئے پہلے خطبہ کا خلاصہ چھپ جاتا ہے اور پھر ٹیپ ریکارڈنگ سے مکمل متن چھپتا ہے۔اس پر بیٹی بختیار صاحب نے یہ یہ خلاف عقل بحث اُٹھانے کی کوشش کی کہ جماعتِ احمد یہ تو غریب جماعت ہے ہی نہیں۔سیدھی سی بات ہے کہ جو