دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 214
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 214 یہ امر ہر گز درست نہیں کہ نکاح اول صحیح ہو چکا ہے اور بندہ اوّل مذہب رکھتا ہے۔رافضی اولاد سنی کو ترکہ سنی نہ ملے گا۔“ (فتاوی رشیدیہ۔ص 225 - مبوب۔ناشر ادب منزل کراچی) عبد العزیز صاحب دہلوی کا فتویٰ ملاحظہ ہو : ہو:۔فتوى ” مرد سنی اور عورت شیعہ میں نکاح کا حکم اس پر موقوف ہے کہ شیعہ کافر ہیں یا نہیں۔مذہب حقی میں اس پر ہے کہ فرقہ شیعہ میں مرتد کا حکم ہے۔ایسے ہی فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے تو اہل سنت و جماعت کے لئے یہ درست نہیں کہ شیعہ عورت سے نکاح کریں۔اور مذہب شافعی میں دو قول ہیں۔ایک قول کی بناء پر شیعہ کافر ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ لوگ فاسق ہیں۔ایسا ہی صواعق محرقہ میں مذکور ہو۔لیکن قطع نظر اس سے اس فرقہ کے ساتھ نکاح کرنے میں طرح طرح کا بہت فساد ہوتا ہے۔مثلاً بد مذہب ہونا۔اہل خانہ اور اولاد کا اور ایک ساتھ بسر کرنے وغیرہ میں باہمی اتفاق نہ ہونا تو اس سے پرہیز کرنا واجب ہے۔“ (فتاوی عزیزیہ۔ص 508۔باہتمام حاجی محمد ذکی۔ناشر سعید کمپنی) اب تک ممبرانِ اسمبلی اٹارنی جنرل صاحب کے ذریعہ جو سوالات کر رہے تھے ان کی طرز یہ جارہی تھی کہ چونکہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ، ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے ، ان کی عورتیں ان کے مردوں سے شادی نہیں کرتیں، اس لیے یہ خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں لہذا دوسرے مسلمان اگر ان کو غیر مسلم قرار دے دیں تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن جب حضور نے غیر احمدی جید علماء کی طرف سے دیئے گئے صرف چند فتاویٰ پڑھ کر سنائے تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق کیا خیالات