دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 108 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 108

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پندرہ جون سے تیس جون تک کے حالات 108 جون کے آخری دو ہفتہ میں بھی جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ کی آگ بھڑ کانے کی مہم پورے زور و شور سے جاری رہی۔اور اب یہ فتنہ پرور اس بات کے لیے بھر پور کاوشیں کر رہے تھے کہ کسی طرح احمدیوں کا معاشی، معاشرتی اور کاروباری بائیکاٹ اتنا مکمل کیا جائے کہ اس کے دباؤ کے تحت ان کے لیے جینا نا ممکن بنادیا جائے اور وہ اپنے عقائد کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ہم اس مرحلہ پر پڑھنے والوں کو یہ یاد دلاتے جائیں کہ جیسا کہ ہم 1973ء کی ہنگامی مجلس شوری کے ذکر میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث" نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ مخالفین یہ منصوبہ بنارہے ہیں کہ احمدیوں پر اتنا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔اور 1974ء میں ہی مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں بھی یہ قرارداد منظور کی گئی تھی کہ احمدیوں کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔اور اب فسادات شروع ہونے کے بعد ان مقاصد کے حصول کے لئے ہر طرح کا ناجائز ذریعہ استعمال کیا جا رہا تھا۔سرگودھا کی دوکانوں پر جلی حروف میں یہ اعلان لکھ کر لگایا گیا تھا کہ یہاں سے مرزائیوں کو سودا نہیں ملے گا۔بعض اوقات جو احمدی گھروں سے باہر نکلتے تو ڈیوٹی پر مامور کچھ لڑکے ان سے استہزاء کرتے ،ان پر موبل آئل پھینکتے۔ان فتنہ پردازوں کی حالت اتنی پست ہو چکی تھی کہ 18 جون کو چنیوٹ میں ایک دس سالہ احمدی لڑکا جب گھر سے باہر نکلا تو اس کے کپڑوں کو آگ لگا دی گئی۔لیکن خدا نے اس کی جان بچائی۔گوجر خان میں ایک بیمار احمدی دوائی لینے کے لیے نکلا تو پورے شہر میں اسے کسی نے دوائی بھی فروخت نہ کی۔یہ لوگ احمدیوں کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں کھونا چاہتے تھے خواہ اس کے لیے کتنی ہی پستی میں کیوں نہ گرنا پڑے۔ان کے مظالم سے زندہ تو زندہ فوت شدہ بھی محفوظ نہ تھے۔22 / جون کو خوشاب میں ایک احمدی کی قبر کو اکھیٹر کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ انہیں فسادات کے دوران ضلع خوشاب میں قائد آباد کے مقام پر ایک بہت بڑا جلوس نکال کر احمدیوں کی چھ دوکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، لائبریری جلائی گئی اور احمدیوں کو زدو کوب کیا گیا۔اس ضلع میں بعض احمدیوں کے مکانوں کو آگ لگائی گئی اور بعض پر نشانات لگائے گئے کہ ان کو نذرِ آتش کرنا ہے لیکن پھر مفسدین کو کامیابی نہیں ہوئی۔اسی ضلع میں 17 جون 1974ء کو ایک گاؤں چک 39ڑی بی میں ایک بڑے / جلوس نے محاصرہ کر لیا اور احمدیوں کو مرتد ہونے کے لئے الٹی میٹم دیا۔احمدیوں کی فصلیں تباہ کی گئیں۔اسی ضلع میں اکتوبر کے