دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 109 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 109

109 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مہینے میں روڈہ کے مقام پر احمدیوں کی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔اور پھگلہ صوبہ سرحد میں دو غیر احمدی احباب کا صرف اس وجہ سے بائیکاٹ کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک احمدی کی تدفین میں شرکت کی تھی۔26 جون کو فتح گڑھ میں ایک احمدی کی تدفین / زیر دستیار کو ادی گئی۔ڈسکہ میں ایک احمدی کی چھ ماہ کی نیکی فوت ہو گئی۔جب تدفین کا وقت آگیا تو سات آٹھ سو افراد کا جلوس اسے روکنے کے لیے پہنچ گیا۔سرکاری افسران سے مدد طلب کی گئی تو انہوں نے کسی مد د سے انکار کر دیا۔ناچار بچی کو جماعت کی مسجد کے صحن میں ہی دفن کیا گیا۔جب پاکستان میں ہر طرف وحشت و بربریت رقص کر رہی تھی تو اس پس منظر میں اخبارات احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا تو ذکر تک نہیں کر رہے تھے البتہ یہ سرخیاں بڑے فخر سے شائع کر رہے تھے کہ علماء کی اپیل پر احمدیوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ 16 / جون کو یہ خبر نوائے وقت کے صفحہ اول کی زینت بنی کہ تحریک ختم نبوت کی اپیل پر آج مسلمانوں نے قادیانیوں کا مکمل سماجی اور سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے ریسٹورانٹ پر گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔اس مرحلہ پر پاکستان کے کچھ سیاسی لیڈر دوسرے ممالک کے سر بر اہان سے بھی اپیلیں کر رہے تھے کہ وہ قادیانیت کو کچلنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں اور اس طرح دوسرے ممالک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی دعوت دی جارہی تھی۔چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر طفیل محمد صاحب نے سعودی عرب کے شاہ فیصل کو ایک تار کے ذریعہ اپیل کی کہ پاکستان میں جو فتنہ قادیانیت نے سر اُٹھا رکھا ہے، اس کو کچلنے کے لیے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔انہوں نے مزید لکھا کہ جس طرح رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اسی طرح پاکستان میں بھی ہونا چاہئے اور لکھا کہ میں حرمین شریفین کے خادم ہونے کے ناطے سے اپیل کرتاہوں کہ آپ اس مسئلہ میں اپنا اثر ورسوخ اور دوسرے ذرائع استعمال کریں (26)۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کے خلاف ایسی شورش برپا کی گئی تو اس کے بہت سے کرتا دھرتا افراد کی پرورش بیرونی ہاتھ کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دوسرے ممالک کو اس ملک کے داخلی معاملات میں دخل دینے کا موقع مل جاتا ہے اور پھر یہ منحوس چکر چلتا رہتا ہے اور اس ملک کی پالیسیوں کی باگ ڈور بیرونی عناصر کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔بعد میں پاکستان میں جو حالات رونما ہوئے وہ اس بات کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔خادم حرمین شریفین یا کسی اور بیرونی سر براہ مملکت کا یہ کام نہیں کہ پاکستان یا کسی اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے لیکن یہ حکومت وقت کا کام بھی ہے کہ وہ اس چیز کا نوٹس لے اور یہ نوبت نہ آنے دے