دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 107 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 107

107 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وو یہ امر قابل توجہ ہے کہ اگر چہ حکومت مذہبی جماعتیں ، اپوزیشن کی جماعتیں اور مولویوں کا گروہ سب جماعت کے خلاف شورش سے اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لیے اس شورش کو ہوا دے رہے تھے اور اس کارنامہ کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے کوشاں تھے لیکن یہ سب جانتے تھے کہ اس شورش کی باگیں ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ملک سے باہر ہیں اور کوئی بیرونی ہاتھ اس بساط پر مہروں کو حرکت دے رہا تھا اور بھٹو صاحب جیسا ذہین سیاستدان یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ اس راستہ میں کئی ممکنہ خطرات بھی تھے۔14 جون کو خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے احباب جماعت کو ان الفاظ میں استغفار کی طرف توجہ دلائی:۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کے لیے استغفار ہے اس لئے تم اٹھتے بیٹھتے ہر وقت خدا سے مدد مانگو۔پچھلے جمعہ کے دن پریشانی تھی لیکن بشاشت بھی تھی اور گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں تھا لیکن بہر حال ہمارے کئی بھائیوں کو تکلیف پہنچ رہی تھی جس کی وجہ سے ہمارے لئے پریشانی تھی۔میں نے نماز میں کئی دفعہ سوائے خدا تعالیٰ کی حمد کے اور اس کی صفات دہرانے کے اور کچھ نہیں مانگا۔میں نے خدا سے عرض کیا کہ خدایا تو مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ ایک احمدی کو کیا چاہئے۔اے خدا !جو تیرے علم میں بہتر ہے وہ ہمارے ہر احمدی بھائی کو دے دے۔میں کیا مانگوں میر اتو علم بھی محدود ہے میرے پاس جو خبریں آرہی ہیں وہ بھی محدود ہیں اور کسی کے لیے ہم نے بد دعا نہیں کرنی، ہاں یادر کھو بالکل نہیں کرنی۔خدا تعالیٰ نے ہمیں دعائیں کرنے کے لیے اور معاف کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس نے ہمیں نوع انسان کا دل جیتنے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس لئے ہم نے کسی کو نہ دکھ پہنچانا ہے اور نہ ہی کسی کے لیے بد دعا کرنی ہے۔آپ نے ہر ایک کے لیے خیر مانگتی ہے۔یادر کھو ہماری جماعت ہر ایک انسان کے دکھوں کو دور کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔لیکن اپنے اس مقام پر کھڑے ہونے کے لیے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے اس طرح دعائیں کی جائیں کہ آپ کی خواہیں بھی استغفار سے معمور ہو جائیں۔“ (25)