غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 81 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 81

81 اس کیفیت میں جب رسول الله ملی و بیت اللہ کے پاس تشریف لائے اور حجر اسود کا بوسہ لیا تو وفور جذبات سے آپ نے باد از بلند اللہ اکبر کا نعرہ بلند (بخاری کتاب المغازی) کیا۔صحابہ نے بھی جواب میں اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور اس زور سے لگائے کہ سر زمین مکہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی مگر نعرے تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے تب رسول اللہ میں نے ہاتھ کے اشارے سے صحابہ کو خاموش کرایا۔(زرقانی جلد ۲ صفحہ ۳۳۴) الله لا پس اے محمد مصطفی میں نیم کے نیچے غلامو! نبیوں کے اس سردار پر درود اور سلام بھیجو جس نے اپنی عظیم الشان فتح کے دن بھی اپنے نام کے نہیں خدائے واحد لا شریک کی عظمت کے نعرے بلند کئے۔بیت اللہ میں عبادت مگر یہ نعرہ ہائے تکبیر یا اونٹنی کے پالان پر سجدہ تشکر تو دراصل آپ کے قلبی جذبات کا ایک ادنی سا علامتی اظہار تھا کہ توحید الہی اور اپنے موٹی کی کبریائی کی کتنی غیرت اور جوش آپ کے دل میں موجزن ہے۔مگر کسے معلوم کہ ابھی تو کتنے ہی بے پناہ ان گنت بے قرار سجدے آپ کی پیشانی میں تڑپ رہے تھے کہ جو بیت اللہ کی زینت بنے والے تھے۔انہی سجدوں سے آج بیت اللہ سجنے والا تھا۔وہی پاکیزہ پر خلوص اور عاجزی سے بھرے ہوئے سجدے جن کی خاطر یہ پہلا گھر بنایا گیا اور جن کی بیت اللہ کو بھی انتظار ہو گی۔اب ان سجدوں کی ادائیگی کا وقت آچکا تھا۔نبی کریم ملی ویلا و لیلی نے بیت اللہ میں آکر پہلا کام یہی کیا کہ کہ اس کے اندر تشریف لے گئے اور بطور شکرانہ فتح نفل نماز ادا کی۔اس وقت حضرت اسامہ اور حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے اور کافی دیر خانہ کعبہ میں عبادت کرتے (بخاری کتاب المغازی) رہے۔رض