غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 82
82 پہلے آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو نفل ادا فرمائے اور باہر تشریف لا کر بیت اللہ کے اندر کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان دو نفل ادا کئے پھر اندر تشریف لے گئے اور کافی دیر کھڑے دعا کرتے رہے حتی کہ خانہ کعبہ کے ہر کونے میں کھڑے ہو کر آپ نے دعا کی۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه (۱۰۱) حضرت ابو بکڑ سے تعلق وفا:۔نماز کی ادائیگی کے بعد صحن کعبہ میں تشریف فرما ہوئے تو حضرت ابو بکر اپنے نابینا بوڑھے باپ ابو قحافہ کو ہمراہ لئے رسول اللہ مال کی خدمت میں حاضر ہوئے۔نبی کریم ملی داری کا اپنے رفقاء سے سلوک احسان اور کمال بجز و انکسار ملاحظہ ہو۔اپنے دیر بینہ جانی رفیق حضرت ابو بکر کے والد جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے کو دیکھ کر فرمانے لگے۔”اپنے بزرگ اور بوڑھے باپ کو آپ گھر میں ہی رہنے دیتے اور مجھے موقع دیتے کہ میں خودان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔" حضرت ابو بکر اس شفقت پر وارے جاتے ہیں کمال ادب سے عرض کیا اے خدا کے رسول مینی یا یہ ان کا زیادہ حق بنتا تھا کہ چل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں بجائے اس کے کہ حضور بنفس نفیس تشریف لے جاتے۔نبی کریم میں نے اپنے سامنے بٹھا کر ابو قحافہ کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمانے لگے کہ اب اسلام قبول کر لیجئے۔ان کا دل تو محبت بھری باتوں سے آپ پہلے ہی جیت چکے تھے۔ابو قحافہ کو انکار کا یارا کہاں تھا انہوں نے فور اُسر تسلیم خم کیا۔اور حضور می ی لی لی اور پھر ان سے دل لگی کی باتیں کرنے لگے ان کے بالوں میں سفیدی دیکھی تو فرمایا کہ خضاب وغیرہ لگا کر ان کے بالوں کا رنگ تو بدلو۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۹۱)