غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 76
76 اسی طرح خالد بن ولید کے دستہ پر حملہ آور ہونے والے قریش مکہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔"خالد کے دستہ سے مزاحمت کرنے کے لئے رسول کریم میم کے خطرناک دشمن اور بنو خزاعہ پر شب خون مارنے والے تیار ہو کر دفاعی پوزیشن لے چکے تھے وہ سرداران قریش صفوان بن امیه ، سهیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل کی رہنمائی میں یہ سب کچھ کر رہے تھے۔جونہی خالد کا دستہ سامنے آیا اس پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔خالد جوابی کارروائی کے لئے تیار تھے انہوں نے جلد ہی دشمن کو پسپا ہونے مجبور کر دیا۔" (لائف آف محمد صفحہ ۴۲۱) مگر اتنی بڑی فتح پر اتنے کم جانی نقصان ہو جانے کا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت افسوس تھا۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۹۲) آپ نے اپنے جرنیل خالد بن ولید کو بلا کر اس کی جواب طلبی فرمائی کہ حتی الامکان از خود حملہ نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود پھر یہ خون کیوں ہوا اور جب آپ کو حقیقت حال کا علم ہوا تو ہمیشہ کی طرح یہ کہہ کر راضی برضا ہوئے کہ منشا الہی یہی تھا۔(سیرة الحلبيه جلد ۳ صفحه (۹۷) فاتح اعظم کے شہر میں داخلے کا عجیب منظر :۔ہمارے سید و مولا کے شہر میں داخل ہونے کا منظر بھی دیکھنے کے لائق تھا۔شہر کا شہر اس عظیم فاتح کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے منتظر تھا اہل شہر سوچتے ہونگے کہ شاید فاتح مکہ آج فخر سے سر اونچائے شہر میں داخل ہو گا لیکن جب محمد مصطفی ملی ایم کی شاہی سواری آئی تو وہاں کچھ اور ہی منظر تھا۔