غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 67 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 67

67 واقف ہے ان کے حق میں فرماتا ہے اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّة کہ جو چاہو کرو تمہارے لئے جنت واجب ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے بدریوں کے دلوں میں گناہ کی ایسی نفرت ڈال دی ہے کہ بالا رادہ ان سے کوئی گناہ نہیں ہو سکتا۔(بخاری کتاب المغازی) اس رؤف و رحیم رسول ملی یوم کی شفقت بے پایاں کا یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھ کر حضرت عمر بے اختیا رونے لگے۔ان کی حیرانی بجا تھی کہ اپنی زندگی کے اہم نازک ترین اور تاریخ ساز موڑ پر تو کوئی بھی فاتح اپنے مقصد کی راہ میں حائل ہونے والی کسی بھی روک کو قطعاً برداشت نہیں کیا کرتا۔ایسے مواقع پر تو سابقہ خدمات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور آئندہ خطرے سے بچنے کیلئے کم از کم احتیاط یہ سمجھی جاتی ہے کہ ایسے قومی مجرم کو زیر حراست رکھا جائے لیکن دیکھو اس دربار عفو و کرم کی شان تو دیکھو جس سے حاطب کے لئے بھی مکمل معافی کا اعلان جاری ہوا۔قدوسیوں کا سفر:۔جب لشکر تیار ہو گیا تو رمضان المبارک کے شروع میں ہی آنحضرت میں اپنے سات ہزار خدام کے جلو میں مدینہ سے نکلے۔جن میں ایک ہزار گھوڑ سوار کچھ شتر سوار اور باقی پیدل تھے۔اس خاموش اور مخفی پیش قدمی میں آپ کے جانیوالے معروف راستوں سے ہٹ کر اس طرح جنوب کی سمت آگے بڑھے کہ آخری پڑاؤ تک لشکر اسلام کے کسی ایک سپاہی کو بھی علم نہ تھا کہ آپ " حنین یا طائف جاتے ہیں یا سکے کا عزم ہے۔راستے میں دوسرے مسلمان قبائل بھی شامل ہوتے گئے اور جب لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہو گئی۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۸۹٬۸۸) اور اس طرح رسول اللہ میر کے حق میں تو رات میں حضرت موسیٰ