غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 68 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 68

68 علیہ السلام کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہو گا۔ایک شدید دشمن سے عفو : جمعہ مقام پر رسول کریم یا نور کا چچا (ابوسفیان) ابن حارث عفو کا طالب ہو کر آیا۔یہ حضور کے بچپن کا ہم عمر ساتھی تھا۔مگر دعوی نبوت کے بعد آپ کا سخت دشمن ہو گیا۔اور آپ کو بہت اذیتیں دیں اور کہا کہ میں تو اس وقت ایمان لاؤں گا جب میرے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر جاؤ اور فرشتوں کے جلو میں کوئی صحیفہ اتار لاؤ جو اس پر گواہ ہوں۔یہ آنحضور می یار کے خلاف ہیں برس گندے اشعار بھی کہتا رہا۔حضرت ام سلمہ نے رسول اکرم میں لیوری کی خدمت میں ان کی معافی کی سفارش کی پہلے تو حضور می یم نے اعراض کیا مگر جب ابن الحارث کا یہ پیغام پہنچا کہ وہ بھوکا پیاسا رہ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا تو آپ کا دل بھر آیا اور اس سے اس کے بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی اور انہیں معاف فرما دیا۔اس موقع پر ابو سفیان بن حارث نے کچھ اشعار کے ایک شعر یہ بھی تھا کہ۔هَدَانِي هَادٍ غَيْرُ نَفْسِي وَ نَالَنِي مَعَ اللهِ مَنْ طَرَدْتُ كُلَّ مُطَرَّدٍ اللہ نے مجھے اس پاک وجود کے ذریعہ ہدایت نصیب فرمائی جسے میں نے دھتکار کر رد کر دیا تھا اور دشمنی میں اس کا پیچھا کیا تھا۔رسول اکرم میں نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور بڑے درد سے فرمایا:۔” تم نے ہی مجھے دھتکارا تھا نا اور پچپن کی دوستی کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔" (ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۸۸-۸۹) حضور ملی الم کے چچا حضرت عباس جن کی ذمہ داری سقایہ الحاج یعنی