غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 66 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 66

66 افشائے راز کا خطرہ:۔لشکر اسلام کی اس خاموش تیاری کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس سے کے پر چڑھائی کا راز کھل جانے کا سخت خطرہ پیدا ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے کے جانیوالی ایک عورت کے ذریعے قریش کو خط لکھ کر یہ اطلاع بھیجوا دی کہ آنحضرت میں دیور کا لشکر تیار ہے یہ معلوم نہیں کہاں کا قصد ہے مگر تم اپنا بچاؤ کر لو اور میرا مقصد اس خط سے تم پر ایک احسان کرنا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول الله ملی علوم کو اس مخبری کی اطلاع کر دی آپ نے گھوڑ سواروں کا ایک دستہ حضرت علی کے ساتھ اس عورت کے تعاقب میں بھیجا اور وہ یہ خط واپس لے آئے۔اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلا کر پوچھا تم نے یہ کیا کیا؟ حاطب نے سچ سچ کہہ دیا کہ یا رسول الله ملی علوم میں قریش میں سے نہیں ہوں مگر اس خط کے ذریعے میں قریش پر احسان کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ مکے میں میرے گھر بار کی حفاظت کریں۔حضرت عمرؓ اس مجلس میں موجود ہیں وہ کہتے ہیں۔یا رسول اللہ ملی ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔مگر جانتے ہو وہ رحیم و کریم رسول میں کیا جواب دیتے ہیں۔فرماتے ہیں نہیں نہیں حاطب سچ کہتا ہے اسے کچھ نہ کہو۔حضرت عمررؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ملی اور اس نے مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے مجھے اس کی گردن مارنے دیجئے۔شفقت بے پایاں :۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک طرف عمر کی سختی پر تحمل سے کام لیا تو دوسری طرف حاطب کی معافی کا اعلان کر دیا اور فرمایا عمر ا تم جانتے نہیں یہ شخص جنگ بدر میں شامل ہوا تھا اور عرش کا خدا جو اصحاب بدر کے حالات سے خوب