غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 65 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 65

65۔سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال عدل اور گہری بصیرت سے ان آراء کا جو تجزیہ فرمایا اس سے آپ کا اپنے ساتھیوں سے گہرا تعلق اور ان کا وسیع نفسیاتی مطالعہ ظاہر ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا ابوبکر تو ابراہیم علیہ السلام کی طرح بے حد نرم دل ہے اور عمر نوح علیہ السلام کی طرح اللہ کی راہ میں چٹان کی طرح مضبوط۔اور موقع کی مناسبت سے عمر کی رائے زیادہ وزنی ہے۔اس مشورے کے بعد حضور نے بصیغہ راز سفر جہاد کی تیاری شروع فرما دی۔رازداری کی حکمت عملی اور تدبیرو دعا: راز داری کی حکمت عملی کا مقصد قریش مکہ کو تیاری کا موقع نہ دیکر انہیں کشت و خون سے بچانا تھا۔چنانچہ آنحضرت مینی و ایریا نے کمال حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے نواح مدینہ میں یہ یغام بھجوایا کہ اس دفعہ کا رمضان مدینہ میں گزاریں اور اہل مدینہ کو سفر کی تیاری کی ہدایت فرمائی۔لیکن یہ ظاہر نہ فرمایا کہ کہاں کا قصد ہے ایک لشکر جرار کی تیاری اور نقل و حرکت رازداری میں رکھنا بظاہر ایک ناممکن امر تھا۔لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہر کٹھن مرحلہ کیلئے دعا اور تدبیر کو کام میں لاتے تھے۔آپ نے اپنے رب کے حضور دعا لَى اللَّهُمَّ خُذِ الْعُيُونَ وَالْأَحْبَارَ عن قریش کہ اے اللہ قریش کے جاسوسوں کو روک رکھ اور ہماری خبریں ان تک نہ پہنچیں اور تدبیر یہ فرمائی کہ مدینے سے مکے جانیوالے راستوں پر پہرے بٹھا دیئے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۸۶٬۸۵) ره سکا۔سرولیم میور جیسا معاند بھی اس کمال رازداری کی داد دیئے بغیر نہیں لائف آف محمد صفحہ ۴۱۶ ۴۱۷)