غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 6
خلق فتح خیبر کے اس مضمون میں محض خیبر کے حالات بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اس فتح میں آنحضور میل کے ظاہر ہونے والے اخلاق کا ذکر خیر ہو گا۔کیونکہ اللہ جل شانہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عظيم (ن:۶) کہ تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔یعنی اخلاق کی تمام قسمیں، سخاوت، شجاعت، عدل، رحم، احسان صدق، حوصلہ وغیرہ سب تجھ میں جمع ہیں۔رسول کریم میں کی شریک حیات حضرت عائشہ کا یہ بے ساختہ بیان آپ کے اخلاق کی خوب الله شير عکاسی کرتا ہے کہ آپ کے اخلاق قرآن تھے۔۔گویا رسول اللہ میں کی کتاب زندگی قرآن شریف کی عملی تفسیر ہے۔جس کا ورق ورق اخلاق فاضلہ کے چمکتے ہوئے بے مثل موتیوں سے سجا ہوا ہے۔فتوحات نبوی میں اخلاق رسول کا مضمون شروع کرتے ہوئے یہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ اپنے انبیاء اور اولیاء کی نسبت یہ ہوتا ہے کہ ان سے ہر قسم کے اخلاق صادر ہوں۔اس لئے ان پر تنگی اور مصیبت کے زمانہ کے بعد فتح اور اقبال کا زمانہ بھی آتا ہے۔جہاں ان کے اخلاق خوب آزمائے جاتے ہیں اور ہمارے آقا و مولا حضرت محمد علی ایم کے اخلاق اس آزمائش پر سب سے بڑھ کر پورے اترے۔پس ہمارے سید و مولا کے مکارم اخلاق کی عظمت یہ ہے کہ وہ حالات کی تبدیلی اور زمانہ کے انقلاب کے باوجود اپنے حسین جلوے دکھاتے نظر آتے ہیں۔مشکلات کے پہاڑ اور مصائب کے طوفان اس کو ہ استقامت کو ہلا نہیں سکتے اور فتوحات اور کامرانیوں کے نظارے اس کوہ وقار میں ذرہ برابر جنبش پیدا نہیں کر سکتے۔تکلف اور تصنع سے پاک مَا أَنَا مِنَ