غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 7
الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: ۸۰) کے مصداق ایسے کامل اور بچے اخلاق میں بلاشبہ (ص:۸۰) خدائی شان جلوہ گر نظر آتی ہے اور ہر صاحب بصیرت انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ اے آقا تیرے روشن و تاباں چہرے میں ایسی شان اور عظمت ہے جو انسانی شمائل اور اخلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔فتح خیبر کے مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے یہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ خیبر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور حدیبیہ کے بعد تین ماہ کی قلیل مدت میں ہی خیبر فتح ہو گیا۔چنانچہ اللہ تعالٰی خیبر کو فتح قریب کے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حدیبیہ میں مسلمانوں کے صبرو استقامت اور جذبات کی قربانی کے مظاہرہ پر خوش ہو کر اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت جلد اپنے وقت سے بھی پہلے یہ فتح بطور انعام عطا فرمائی ہے۔اس جگہ خیبر کے حالات کو سمجھنے کے لئے پس منظر اور دیباچہ کے طور پر یہود کے ساتھ بعض دوسرے غزوات اور غزوہ خیبر کے بعض واقعات کا بیان ناگزیر ہے۔یہود مدینہ اور رسول اکرم :۔آپ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد یہود کے تین قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے ساتھ امن و صلح سے رہنے کا معاہدہ کیا۔یہود کے یہ تینوں قبیلے مدینہ کے جنوب مشرق میں چار پانچ میل کے اندر پھیلے ہوئے تھے۔۶ ھ میں بدر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد یہود کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور انہوں نے مدینہ کے مشرکین اور منافقین سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔یہود بنو قینقاع اس میں پیش پیش تھے۔جب اس معاہدہ شکنی ، فساد اور بے حیائی کی ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ