غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 50 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 50

50 ملکہ کو ایک عام صحابی سے لے کر نہ صرف آزاد کیا بلکہ صفیہ کو اجازت دی کہ چاہیں تو اپنے عزیزوں کے پاس جا سکتی ہیں اور چاہیں تو حضور میلیا کے پاس بیوی بن کر رہیں۔حضرت صفیہ نے عرض کیا کہ میرے دل میں تو اسلام کی صداقت بیٹھ چکی ہے میں مسلمان ہوتی ہوں اور مجھے آپ کے ساتھ رہنا پسند ہے۔( تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ) شادی کے بعد انہوں نے حضور میں کو اپنی ایک پرانی خواب بھی سنائی کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ چاند میری جھولی میں آپڑا ہے۔میں نے اپنے خاوند کو یہ خواب سنائی اس نے کہا تمہارا باپ عالم آدمی ہے اسے یہ خواب سنانی چاہئے۔چنانچہ اپنے باپ کو جب میں نے یہ خواب سنائی تو اس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا۔نالائق حجاز کے نئے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔جو نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۳) یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔یہ خواب جہاں رسول اللہ میں تعلیم کی صداقت کا نشان ہے وہاں حضرت صفیہ کے صدق و صفا کی بھی مظہر ہے۔کہ اس خواب نے جس طرح صفیہ کے باپ کے دل میں بغض پیدا کیا تھا۔جب صفیہ نے اس کی تعبیر سنی ہو گی تو ان کے دل میں رسول اللہ علیہ کی محبت کی پہلی کو نیل ضرور پھوٹی ہوگی۔سرولیم میور لائف آف محمد میں یہ خواب (جو حضرت صفیہ نے خود آنحضرت میم کو سنائی بیان کرنے کے بعد کھسیانا اور حواس باختہ ہو کر اپنے تعصب میں جلتا ہوا ایک عجیب مضحکہ خیز بات کرتا ہے وہ لکھتا ہے کہ :۔صفیہ بہت جلد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف مائل ہو گئیں اور اپنی یہ خواب حضور کو سنانے لگیں لیکن خیبر کی ساری عورتیں ایسی بے وفا نہ تھیں بلکہ قومی جذبہ رکھنے والی ان عورتوں میں ایک دوسری