غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 49 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 49

49 ہو گئے۔رسول اللہ میں نے اس عورت اور دوسرے یہودیوں کو بلایا اور چھا کہ اے یہود! سچ سچ بتاؤ تم نے اس گوشت میں زہر کیوں ڈالا ؟ وہ عورت کہنے لگی ہم نے سوچا کہ اگر آپ بچے نہیں تو آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر بچے ہیں تو زہر آپ پر اثر نہیں کرے گا۔اب مجھ پر کھل گیا ہے کہ آپ بچے ہیں اور میں یہاں موجود سب لوگوں کو گواہ ٹھہرا کر کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتی ہوں۔رسول کریم میں ان کی ہیلی نے اسے بھی معاف فرما دیا۔البتہ بعض روایات کے مطابق ایک سال بعد حضرت بشیر اس زہر کے اثر سے جانبر نہ ہو سکے تو ان کے قصاص میں اسے سزائے موت ملی۔(بخاری کتاب الطب و تاریخ الخميس جلد دوم صفحه ۵۲) مگر آپ نے اپنی ذات کیلئے کوئی انتقام لینا پسند نہ فرمایا حالانکہ آخری عمر تک اس زہر کے اثر سے تکلیف محسوس فرماتے رہے۔چنانچہ جب آپ آخری بیماری میں آخری سانس لے رہے تھے تو حضرت عائشہ سے فرمانے لگے اے عائشہ! میں اب تک اس زہر کی اذیت محسوس کرتا رہا ہوں جو خیبر میں یہودیوں نے مجھے دیا تھا۔اور اب بھی میرے بدن میں اس زہر کے اثر سے تکلیف اور جلن کی کیفیت ہے۔(بخاری کتاب المغازی) نبی کریم میں نے یہود پر مزید احسان کرتے ہوئے ان کے رفع غم کی تدبیریں کیں اور ان کو اپنے اعتماد میں لینے کی کوششیں فرماتے رہے۔حضرت صفیہ جو بنو نضیر کے سردار کی بیٹی اور بنو قریظہ کے سردار کی بیوی ہونے کے لحاظ سے دو قبیلوں کی سردار تھیں۔جب ایک صحابی حضرت وحید نے ان کو آنحضور میں ولی کی اجازت سے لونڈی کے طور پر لے لیا تو بعض صحابہ کے اصرار پر یہود کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے آنحضور میں نے یہود کی