غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 51
51 زینب بھی تھی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو بڑی جرات سے زہر دیا تھا۔2 ملاحظہ کیجئے صفیہ کے والد اور اس کے تیرہ سو سال بعد پیدا ہونے والے معاند اسلام سرولیم میور پر حضرت صفیہ کے خواب پر معاندانہ رد عمل آپس کتنا مشابہ ہے کہ وہ دونوں حضرت صفیہ کے خواب کو سن کر برافروختہ میں ہوتے ہیں اور حضرت صفیہ جب تعبیر سے لاعلمی کے باعث کمال سادگی اور سچائی سے اپنی خواب والد کو سناتی ہیں تو وہ تعبیر کر کے تھپڑ مارتا ہے کہ گویا یہ خواب کیوں دیکھی؟ اور سرولیم میور اس کچی خواب کو سن کر اور بعد میں پورا ہوتی دیکھ کر اور بھی غصے میں آجاتا ہے اور حضرت صفیہ کو بے وفائی کا الزام دینے لگتا ہے اور اس سے زیادہ آخر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔لیکن اس واقعہ سے ایک بات صاف ظاہر ہے کہ صفیہ جن کا باپ خاوند اور عزیز و اقارب رسول اللہ میں دیوی کے ہاتھوں مارے گئے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ حیرت انگیز امر ہے اور یہ حیرت ہمیں چودہ سو سال کے فاصلہ کی وجہ سے پیدا نہیں ہو رہی۔بلکہ جب یہ واقعہ رونما ہو رہا تھا تو اس وقت اس سے کہیں زیادہ حیرت و استعجاب کے ساتھ کچھ خوف اور اندیشے بھی نمایاں تھے۔جس کا اظہار اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے۔جو غزوہ خیبر سے واپسی پر پیش آیا۔ابو ایوب انصاری کی فدائیت : حضرت صفیہ " کے رخصتانہ کی رات کا ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھانے کے لئے اپنے خیمہ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری تلوار سونتے مستعد کھڑے ہیں۔سرکار دو عالم نے پوچھا ابو ایوب کیا بات ہے؟ عرض کیا۔جان سے عزیز آقا! صفیہ کے