غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 17 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 17

17 پہلی جنگی کارروائی : مسلمانوں کے خلاف پہلی جنگی کارروائی کا آغاز یہود کے حلیف قبائل غطفان کے ایک قبیلہ بنو فزارہ نے سندھ میں کر دیا۔انہوں نے ذی قرد کی چراگاہ پر جس میں آنحضرت میں لایا اور ملک کے مویشی اونٹ وغیرہ چرا کرتے تھے حملہ کر دیا اور چند اونٹنیاں لوٹ کر لے گئے۔لیکن ایک بہادر نوجوان صحابی سلمہ بن الاکوع نے ان کا تعاقب کر کے عین اس وقت جب وہ پانی کے ایک چشمہ پر محو استراحت تھے تیروں کی بوچھاڑ کر کے ان کو بھگا دیا اور اونٹنیاں واپس لے آئے۔نبی کریم میں والوں کو اس اچانک حملہ کی خبر ہوئی تو آپ " صحابہ کے ساتھ تشریف لائے۔بہادر سلمہ بن الاکوع نے آنحضرت تیم ملی کی خدمت میں دشمن کا مزید تعاقب کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ میں نے انہیں چشمہ کا پانی نہیں پینے دیا تھا وہ سخت پیاسے ہیں اگلے چشمہ پر ضرور مل جائیں گے۔ہمارے سید و مولا رحمتہ اللعالمین نے اس کا کیا خوبصورت جواب دیا۔ایک فقرہ کہہ کر گویا دریا کو زے میں بند کر دیا۔نہیں نہیں بلکہ رحمتوں کا سمند ر ایک فقرے سمو دیا۔فرمایا اے سلمہ إِذَا مَلَكْتَ فَاسْجَحْ کہ جب دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو پھر عفو سے کام لیا کرتے ہیں۔(مسلم کتاب الجاد والسیر) اے رحمت مجسم " ! تجھ پر سلامتی ہو تجھ پر ہزاروں رحمتیں! ہم نے عفو کی تعلیم کے چرچے تو دنیا میں بہت سنے لیکن عفو و رحمت کے نمونے تیرے وجود باجود ہی سے دیکھے۔ہاں ہاں تیرے ہی دم قدم سے عفو و کرم کے ایسے چشمے پھوٹے کہ اپنے تو اپنے بیگانے بھی اس سے فیضیاب ہوئے۔یہود کے حلیف بنو فزارہ کا مسلمانوں کی چراگاہ پر حملہ یہود خیبر کی طرف سے گویا جنگ کا اعلان تھا۔ان حالات میں مسلمانوں کا مدینہ میں خیبر کے بڑے