غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 18 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 18

18 حملہ کا انتظار کرنا سخت نادانی تھی۔خصوصاً جنگ خندق میں مسلمان محاصرہ کی تکالیف اور صعوبتوں کا تلخ تجربہ کر چکے تھے۔اس لئے دانشمندی یہی تھی کہ آگے بڑھ کر خیبر والوں کی خبر لی جائے۔خیبر کو کوچ : چنانچہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اس واقعہ کے تین دن بعد آنحضرت مینی وی نے خیبر کی طرف پیش قدمی کیلئے حکم فرمایا۔سولہ سو مسلمان سپاہی اس غزوہ کیلئے تیار ہوئے۔جن میں سے دو سو گھوڑ سوار تھے اور باقی پیدل اور اونٹوں پر تھے۔اس کے مقابل یهود خیبر مضبوط قلعوں کے علاوہ سامان حرب سے لیس تھے۔دس ہزار سپاہی ان کے قلعوں میں موجود تھے اور پھر پھینکنے کی منجنیقیں بھی ان کے پاس تھیں اور وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان ان کے محفوظ قلعوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔مسلمانوں کی کمزوری اور یہود کی طاقت کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ مسلمانوں کی روانگی سے پہلے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے اہل خیبر کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی اطلاع کرتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ محمد ملی یا ایم تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں یہ مٹھی بھر آدمی ہیں جن کے پاس ہتھیار تک نہیں۔اپنے اموال محفوظ کر کے تم قلعوں سے باہر نکل کر ان کا مقابلہ کرو تم انہیں باسانی شکست دے سکتے ہو۔اہل خیبر نے یہ اطلاع ملتے اپنے سرداروں کا ایک وفد اپنے حلیف قبیلہ غطفان کے پاس مدد کیلئے بھیجا اور مسلمانوں پر فتح کی صورت میں خیبر کے باغات کے نصف پھل دینے کی پیشکش کی۔( تاريخ الخميس جلد ۲ صفحہ ۴۳ سیرت الحلبيه جلد سوم ۳۸ - ۳۹ - ۴۳) ان حالات میں آنحضرت میایی یا ہم نے نہایت دانشمندی اور حسن تدبیر سے بڑی سرعت اور تیزی کے ساتھ خیبر کی طرف خاموش پیش قدمی کا پروگرام بنایا۔یہ منصوبہ جتنا نازک تھا اتنا ہی مشکل اور کٹھن بھی تھا۔بڑا مسئلہ