غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 26
26 خزانہ ہے۔(بخاری کتاب المغازی باب فتح خیبر) لا حول ولا قوة کا ذکر یعنی بلند و بالا اور عظیم خدا کے سوا کسی کو کوئی قوت اور طاقت حاصل نہیں ، نبی کریم میں ان کی اس دلی کیفیت کا خوب آئینہ دار ہے جو فاتحین عالم کے غرور اور تکبر کے مقابلہ پر خیبر میں داخلہ کے وقت میرے آقا سے عجز و انکساری اپنی ناتوانی اور بے طاقتی کے اظہار سے عیاں ہو رہا ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ کا بھروسہ اپنے اسی قادر و توانا خدا پر اور اس سے عاجزانہ دعائیں کرنے پر ہو تا تھا خادم رسول حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس سفر میں بہت دفعہ رسول اللہ صلی یم کو یہ دعا کرتے سنا۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَ اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَشلِ وَاَعُوذُبِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَ اَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهرِ الرِّجَالِ (ابو داؤد کتاب الهاد) کہ اے اللہ تعالیٰ میں پناہ مانگتا ہوں تیرے حضور مشکلات اور غم سے اور پناہ مانگتا ہوں تیرے حضور بے سروسامانی اور سامان سے کام نہ لینے سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیرے حضور بزدلی اور بخیلی سے اور پناہ مانگتا ہوں تیرے حضور قرض کی زیادتی سے اور لوگوں کے ذلیل کرنے سے۔یہاں ذرا ٹھہر کر سوچئے تو سہی کہ اس شاہ دو عالم کو کس چیز کا غم ستا تا تھا جس سے بچنے کی وہ دعائیں کرتے تھے۔تو قرآن شریف کی آیت لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَنْ لا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) جواب دیتی ہے کہ اس رحمتہ اللعالمین کو ایک ہی تو غم تھا جو سب غموں سے سوا تھا اور جس سے آپ کو کسی پہلو چین نہ آتا تھا۔یعنی دشمنان اسلام کی ایمان سے محرومی کا غم کہاں ہیں میرے آقا پر مال غنیمت کی خواہش کا اعتراض کرنے والے وہ ذرا قریب ہو کر اس رحمت مجسم کے دل سے اٹھنے والی سرگوشیاں