غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 100 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 100

100 عرض کرنے لگے۔موٹی اے میرے مولی! عکرمہ کی سب عداوتیں اور قصور معاف فرما دے اور خود آپ نے بھی صدق دل سے عکرمہ کو ایسا معاف کیا کہ۔مسلمانوں کو بھی تاکید کی کہ دیکھو عکرمہ کے سامنے اس کے باپ ابو جہل کو برا بھلا نہ کہنا اس سے میرے ساتھی عکرمہ کی دلازاری ہوگی اور اسے تکلیف پہنچے گی۔(ابن ہشام جلد ۴ جلد ۹۲) ھند سے حسن سلوک۔ان مجرموں میں ابوسفیان کی بیوی ھند بنت عقبہ بھی تھی۔جس نے اسلام کے خلاف جنگوں کے دوران کفار قریش کو اکسانے اور بھڑ کانے کا فریضہ خوب ادا کیا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ کر اپنے مردوں کو انگیخت کیا تھا کہ اگر فتح مند ہو کر لوٹو گے تو ہم تمہارا استقبال کریں گی ورنہ ہمیشہ کیلئے جدائی اختیار کرلیں گی۔(ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۱۵۱) اس طرح جنگ احد میں اسی ھند نے رسول اللہ میں عالم کے چچا حضرت حمزہ کی نعش کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا تھا ان کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑا اور ان کا کلیجہ چبا کر آتش انتقام سرد کی تھی۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ نے عورتوں کی بیعت لی تو یہ ھند بھی نقاب اوڑھ کر آگئی کیونکہ اسکے جرائم کی وجہ سے اسے بھی واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔بیعت کے دوران اس نے بعض شرائط بیعت کے بارہ میں استفسار کیا تو نبی کریم میں پہچان گئے کہ ایسی دیدہ دلیری ھند ہی کر سکتی ہے۔آپ نے پوچھا کیا تم ابو سفیان کی بیوی ھند ہو! اس نے کہا یا رسول اللہ صلی ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں جو کچھ پہلے گزرچکا آپ بھی اس سے در گذر فرمائیں۔اللہ تعالٰی آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔رسول کریم میں تیاریوں کا حوصلہ دیکھو کہ اپنے محبوب چا کا کلیجہ چبانے