غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 101
101 والی ھند کو بھی معاف فرما کر ہمیشہ کیلئے اس کا دل جیت لیا۔اس پر آپ کے عفو و کرم کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی اس نے اپنا دل بھی شرک و بت پرستی سے پاک کیا اور گھر میں موجود تمام بت توڑ کر نکال باہر کئے۔اسی شام ہند نے رسول اللہ میں یوم کے لئے ضیافت کے اہتمام کی خاطر دو بکرے ذبح کروا کے اور بھون کر حضور کی خدمت میں بھجوائے اور خادمہ کے ہاتھ پیغام بھجوایا کہ ھند بہت معذرت کرتی ہیں کہ آج کل جانور کم ہیں اس لئے یہ جو حقیر سا تحفہ پیش کرنے کی توفیق پا رہی ہوں قبول فرمائیں۔ہمارے محسن آقاد مولا جو کسی کے احسان کا بوجھ اپنے اوپر نہ رکھتے تھے نے اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ان کے بکریوں کے ریوڑ میں بہت برکت ڈال دے۔یہ دعا اس شان کے ساتھ قبول ہوئی کہ ھند سے بکریاں سنبھالی نہ جاتی تھیں۔پھر تو ھند رسول خدا کی ایسی دیوانی ہوئی کہ خود کہا کرتی تھی کہ یا رسول الله لا لا لا لو وہ ایک وقت تھا جب آپ کا گھر میری نظر میں دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر تھا مگر اب یہ حال ہے کہ روئے زمین پر تمام گھرانوں سے معزز اور عزیز مجھے آپ کا گھر ہے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۱۸) وہ لوگ جو اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسکی اشاعت تلوار کے زور سے ہوئی۔سوچیں اور غور کریں کہ وہ کونسی تلوار تھی جس نے ھند کا دل فتح کیا تھا۔بلاشبہ وہ رسول اللہ کی بے پایاں رحمت ہی تھی۔قاتل حمزہ سے در گذر :۔ان واجب القتل مجرموں میں وحشی بن حرب بھی تھا جس نے اپنی غلامی سے آزادی کے لالچ میں غزوہ احد میں سامنے آکر مقابلہ کرنے کی بجائے چھپ کر اسلامی علمبردار حضرت حمزہ پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کیا تھا۔فتح مکہ کے بعد یہ طائف کی طرف بھاگ گیا بعد میں جب مختلف علاقوں سے سفارتی وفود