غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 99 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 99

99 درست کہتی ہے۔تب عکرمہ کا سینہ کھل گیا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھا۔اے محمدا واقعی آپ تو بہت ہی صلہ رحمی کرنیوالے اور بے حد حلیم اور بہت ہی کریم ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدملی یا لیلی اللہ کے رسول ہیں۔تب میرے آقا کی خوشی دیکھنے والی تھی کہ مشرکین کا سردار اپنے لشکر کا سالار مسلمان ہو رہا تھا آج ان کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہ آپ کے خوابوں کی تعبیریں پوری ہو رہی تھیں۔آپ نے ایک دفعہ رویا میں ابو جہل کے ہاتھ میں جنتی پھل انگور کے خوشے دیکھے تھے آج ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کے قبول اسلام سے اس کی تعبیر ظاہر ہوئی۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ میں لیا اور میں خوشی سے مسکرا رہے تھے صحابہ نے استفسار کیا تو فرمایا کہ میں خدا کی شان اور قدرت پر حیران ہو کر خوشی سے مسکراتا ہوں کہ بدر میں عکرمہ نے جس مسلمان صحابی کو قتل کیا تھا وہ شہید صحابی اور عکرمہ دونوں جنت میں ایک ہی درجے میں ہوں گے۔بعد میں جنگ پر موک میں عکرمہ کی شہادت سے یہ بات مزید کھل کر ظاہر ہو گئی۔عکرمہ پر مزید احسان: العرض نبی کریم میں نے عکرمہ کے اسلام سے خوش ہو کر فرمایا کہ اے عکرمہ! آج جو مانگنا ہے مجھ سے مانگ لو میں اپنی توفیق و استطاعت کے مطابق تمہیں عطا کرنیکا وعدہ کرتا ہوں۔مگر اب وہ دنیا دار عکرمہ یکسر بدل چکا تھا توحید و رسالت کا صدق دل سے اقرار کر کے اور رسول اللہ مالی تعلیم کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی ہستی میں ایک انقلاب رونما ہو چکا تھا اس نے عرض کیا اے خدا کے رسول ! میرے لئے اپنے موٹی سے بخشش کی دعا کیجئے کہ جو دشمنی میں نے آج تک آپ سے کی وہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا کیلئے خدا کے حضور ہاتھ پھیلا دیئے اور