خُوبصورت یادیں

by Other Authors

Page 37 of 65

خُوبصورت یادیں — Page 37

خاتون صالحہ 37 لجنہ اماء الله حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی شفقت کے اظہار کا ایک نظارہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ والد صاحب ڈاکٹر غلام علی مدراس کی چھاؤنی میں متعین تھے۔جو کہ شہر سے دور تھی اور اس جگہ مشن ہاؤس قائم نہ تھا۔والد صاحب اور والدہ صاحبہ ذاتی طور پر سلسلہ کے کاموں کی طرف توجہ رکھتے تھے چنانچہ ایک دفعہ والد صاحب بیمار ہو گئے۔بیماری طول پکڑتی گئی۔علاج کارگر نظر نہ آیا۔والد صاحب نے گھر آکر والدہ صاحبہ کو فرمایا کہ میرے بھائی کو اطلاع کردیں نیز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں حالات لکھ کر دعا کے لئے عرض کریں۔چنانچہ والدہ صاحبہ نے اسی وقت نہایت ہی بے قراری کی حالت میں ابا جان کی بیماری کی حالت لکھ کر دعا کی استدعا کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں خط ڈال دیا والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ خط ابھی راستے میں ہی ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے حضور اور خلیفہ وقت کے دربار میں لکھی گئی درخواست دعا خدا کے حضور قبول ہوئی اور والد صاحب کی اتنی زیادہ بگڑتی ہوئی حالت سنبھلنے لگی کہ خود حیرت میں رہ گئی۔پھر دیکھتی ہوں کہ دو دن بعد ہی علی الصبح مدراس کے کسی قریبی علاقہ کے مشن ہاؤس سے تین افراد ہماری چھاؤنی میں ڈاکٹر صاحب کی حالت معلوم کرنے پہنچ گئے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں مرکز سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تار موصول ہوئی ہے کہ ڈاکٹر غلام علی جو مدراس کی چھاؤنی میں متعین ہیں وہ بیمار ہیں اور ان کی بیوی بھی اکیلی ہے وہاں دوسرا کوئی احمدی نہیں ہے اس لئے فور اوہاں پہنچو۔چنانچہ تار ملتے ہی ہم آپ کی خدمت میں پہنچ گئے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ میں