خُوبصورت یادیں — Page 36
خاتون صالحہ 36 لجنہ اماء اللہ لاہور عہدیداران کا انتخاب بھی حضرت آپا جان کی موجودگی میں ان کے مشورہ سے عمل میں آیا۔اسی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ایک ہی گھر میں اجلاس منعقد کرنے کی بجائے باری باری ہر ممبر کے گھر ایک ایک ماہ اجلاس رکھے جائیں جو مہینہ میں دو بار ہونے مقرر ہوئے۔اور بعد دعا وسطی چھاؤنی کے اس افتتاحی اجلاس میں شمالی چھاؤنی اور جنوبی چھاؤنی یعنی کیولری گراؤنڈ کی تمام ممبرات بھی مدعو تھیں جن کی تعداد خدا کے فضل سے ستر کے لگ بھگ تھی اس اجلاس میں محترمہ صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ بیگم مرزا حمید احمد صاحب بھی شامل تھیں جو کہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ربوہ شفٹ ہو جانے کے بعد صد راجنہ اماء اللہ لاہور کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔خدا کے فضل سے تقریباً اب ۲۹ برس سے یہ حلقہ کامیابی سے چل رہا ہے اور قابل تقلید حلقوں میں شمار ہوتا ہے اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی بنفس نفیس شمولیت کے نتیجے میں خصوصی دعا ئیں اور برکت حاصل کر کے ایک یاد گیر حلقہ کا مستحق قرار پایا۔- والدہ صاحبہ کا دعاؤں پر یقین محکم جیسے کہ پہلے ذکر ہے کہ والدہ صاحبہ ایک ایسی ذات کی رفیقہ حیات تھیں جن کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے تعلیم کے ابتدائی ایام سے ہی قربت اور دلی تعلقات کا نادر موقع ملا تھا اور خود والدہ صاحبہ بھی خاندان حضرت مسیح موعود اور خلفاء وقت سے دعاؤں کے سلسلہ میں ذاتی رابطہ قائم رکھنے کی عادی تھیں