خُوبصورت یادیں — Page 34
خاتون صالحہ 34 لجنہ اماء اللہ لاہور کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے پھر اگر کسی کی مدد کرنے کا موقعہ پیش آتا تو اس کی عزت نفس کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی نہ کسی بہانے سے اس طرح مدد کرتیں کہ دوسرا سبکی محسوس نہ کرتا۔وہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتیں کہ تحائف دینے کا موقعہ ملتا رہے اور خصوصاً ان لوگوں کو جن کو وہ سمجھتی تھیں کہ ضرورت مند بھی ہیں۔وہ ہمیشہ کبھی عید کے موقعہ پر رمضان میں دعا کی درخواست کی غرض ظاہر کر کے اور کبھی اپنے خاندان کی کسی بھی موقع پر خوشی میں شامل کرنے کے بہانے سے غرضیکہ کسی ایسے بہانہ سے مدد کرتیں کہ وہ مدد بھی ہو جاتی اور عزت نفس پر حرف بھی نہ آتا اور ان کی خوشی کا باعث بھی ہوتا۔والدہ صاحبہ کا یہ جذبہ مہمانداری دینی موقعہ ہو یا دنیاوی ہر جگہ ہی کار فرما نظر آتا تھا آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ دینی اجتماع اجلاسوں کی صورت میں پارٹیوں کی صورت ان کے غریب خانہ پر منعقد ہوں تاکہ ان کو مہمانوں کی خدمت کا موقعہ بھی نصیب ہوتا رہے۔اور انہیں اکثر توفیق بھی ملتی رہی وہ دن بھی یاد ہیں کہ جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رتن باغ لاہور سے ربوہ شفٹ ہوئے تو حضرت نواب منصورہ بیگم صاحبہ کو بچہ مرکز یہ لاہور نے الوداعی پارٹی دی۔اور تحفہ پیش کیا اور اس پارٹی میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور دوسری مستورات خاندان بھی شامل ہو ئیں۔اس پارٹی کا اہتمام ہماری کو ٹھی ہ میکلوڈ روڈ میں ہوا جس کا انتظام والدہ صاحبہ کی نگرانی میں ہوا۔اس طرح ان کی دلی خواہش پوری ہونے کے ساماں ہو جاتے۔وسطی چھاؤنی لاہور اور کیولری گراؤنڈ لاہور لجنہ کا اجراء و افتتاح