خُوبصورت یادیں

by Other Authors

Page 32 of 65

خُوبصورت یادیں — Page 32

خاتون صالحہ 32 لجنہ اماء اہور صاحب مرحوم کے زمانہ سے ہی والدہ صاحبہ کو بے حد فراخدلانہ انداز میں مہمان نوازی کرتے دیکھا بڑی خندہ پیشانی سے ہر مہمان کی تعظیم کرنا فرض اولین تصور کرتی تھیں اور ان کی خاطر تواضع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا ان کی فطرت کا خاصہ تھا۔ان میں لوگوں سے تعلقات بڑھانے کا خاص ملکہ تھا۔اور ان کا دوستی کا حلقہ نہایت وسیع تھا مگر اس دوستی اور تعلقات بڑھانے کی تہہ میں ایک خاص جذبہ نظر آتا رہا اور وہ جذبہ اسلام کی تعلیم کو دوسروں کے دلوں میں بٹھا دینا اور اس کی تعلیم سے روشناس کرانا تھا ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ایران میں برٹش کونسلیٹ میں ہمارے والد ڈاکٹر غلام علی صاحب مرحوم کو ہسپتال کے انچارج کی حیثیت سے متعین کیا گیا اور اس زمانے میں جبکہ ایران میں ڈاکٹروں کی کمی تھی تو والد صاحب کو بڑے بڑے رؤساء کے گھروں میں بغرض علاج جانا پڑتا تھا۔اس طرح والدہ صاحبہ کو بھی اپنے تعلقات وزراء ایرانی اور ہندوستانی برٹش اور سکھ مستورات سے استوار کرنے کا موقع ملتا رہا۔اور ذاتی تعلقات کی بناء پر آمدو رفت کے سلسلہ کو اپنی مهمان داری کے وصف سے مضبوط سے مضبوط تر بنا لیا چونکہ والدہ صاحبہ اور والد صاحب ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ تبلیغ کا سلسلہ چل نکلے چنانچہ ہماری چھوٹی بہن امتہ الکریم کی پیدائش پر جو کہ ایران میں ہوئی اور جو والدہ صاحبہ کی تیسری بیٹی تھی۔اور لوگ مبارک دینے کی بجائے ہمدردی جتاتے تھے والدہ صاحبہ نے اسلام کی تعلیم کو اجاگر کرنے کے لئے اس موقع کو بھی تبلیغ کا بہانہ بنا لیا۔وہ اس طرح سے کہ والدہ صاحبہ اور والد صاحب نے اس تیسری بچی کی پیدائش کے