خُوبصورت یادیں — Page 31
خاتون صالح 31 لاہور اپنی بیٹی ذکیہ بیگم صاحبہ بیگم کرنل مرزا داؤ د احمد صاحب کے ہاں ڈیفنس سوسائٹی میں تشریف لائی ہوئی تھیں۔ہمیں جب علم ہوا تو ہم اگلے روز ہی آپ سے ملاقات کے لئے کرنل صاحب کی کوٹھی پہنچ گئے۔حضرت بیگم صاحبہ اس وقت اوپر کی منزل کے برآمدے میں تشریف فرما تھیں۔ہمیں دیکھ کر بشاشت کا اظہار فرمایا اور ساتھ ہی پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھنے کے لئے کہا۔اور ساتھ ہی فرمانے لگیں ”دیکھو نا آمنہ کراچی کی آب وہوا۔میرے بازو جسم کیسے پہلے نظر آنے لگ گئے ہیں " میں نے عرض کیا کہ آپا جان ! یہاں کی آب و ہوا ہی ایسی ہے۔اس پر اپنی بیٹی ہو ذکیہ بیگم کو مخاطب کر کے اور ساتھ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگیں ذکیہ ادھر دیکھو ہمارا لاہور پنجاب کو اور میری ہمشیرہ امتہ الحفیظ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اور ادھر دیکھو اپنی کراچی کو " کیا ہی خوبصورت دو جملوں میں پر مزاح انداز میں اپنا مافی الضمیر ادا کر گئیں۔جن سے ان کی مراد یہ تھی کہ پنجاب میں رہنے والوں کی صحتیں اور رنگ سفید اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کراچی کی آب و ہوا سے صحت اور رنگت خراب ہو جاتی ہے۔تاہم یہ فقرات اس قدر برجستہ انداز میں کئے گئے کہ سب کو ہنسی آگئی اور کافی وقت وہاں بیٹھے ہوئے اور گھر جا کر بھی ہم سب محظوظ ہوتے رہے۔اور اس جملے کو دہراتے رہے کہ یہ ہے ہمارا لا ہور اور وہ ہے تمہارا کراچی"۔" والدہ صاحبہ اپنی والدہ صاحبہ کا جذبه مهمان نوازی دوسری خوبیوں کے علاوہ مہمان نوازی میں بھی ایک بلند معیار کی مالک تھیں۔ہم نے والد