خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 69
خطابات شوری جلد سوم ۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء اس کے متعلق بعد میں فیصلہ ہو گا۔اب آخر میں کچھ اور باتیں کہہ کر اس اجلاس کو برخواست کرتا ہوں۔اختتامی تقریر سب سے پہلے میں دوستوں کو پھر دوبارہ وقف جائیداد کی تحریک کی وقف جائیداد طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف میں اپنے دو گزشتہ خطبوں میں بھی توجہ دلا چکا ہوں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں میری تحریک پر خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی بہت بڑی اکثریت نے اپنی جائیدادوں کو دین کے لئے وقف کر دیا ہے۔اسی طرح بیرونجات میں سے بھی سینکڑوں کی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی جائیدادوں اور آمدنیوں کو اس غرض کے لئے وقف کیا ہے لیکن لاکھوں کی جماعت میں سے سینکڑوں کا وقف قربانی کا وہ شاندار مظاہرہ نہیں جس کی جماعت سے توقع کی جاتی تھی۔ابھی علاقوں کے علاقے ، گاؤں کے گاؤں ،تحصیلوں کی تحصیلیں اور ضلعوں کے ضلعے ایسے ہیں جن میں رہنے والے ہزاروں احمدیوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی جائیداد کو وقف نہیں کیا۔یا بڑے بڑے وسیع علاقوں میں سے صرف ایک دو نے تحریک وقف میں حصہ لیا ہے، باقی لوگوں نے ابھی تک کوئی حصہ نہیں لیا۔اس وقت تمام جماعتوں کے نمائندے یہاں موجود ہیں اس لئے میں ایک بار پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارا وعدہ جس کو ہم بار بار اپنی زبان سے دُہراتے رہتے ہیں یہ ہے کہ ہماری ہر چیز خدا تعالیٰ کے لئے قربان ہے ، ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں، ہمیں اپنے مالوں کی پرواہ نہیں ، ہم مٹ جائیں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ دین کو کوئی ضعف پہنچے، یہ وعدہ ہے جو ہم منہ سے بار ہا دہراتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اسی وعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ان اللہ اشترى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ الله تعالى نے مومنوں سے اُن کی جانیں بھی لے لیں اور اُن کے مال بھی لے لئے اس بات کے بدلہ میں کہ انہیں جنت عطا کی جائے گی۔جب ہماری جانیں اور ہمارے اموال خدا نے ہم سے لے لئے اور ہم نے اس معاہدہ کو قبول کر لیا تو اس کے بعد ہمارا یہ کہنا کہ ہم جان کیوں