خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 68

خطابات شوری جلد سوم ۶۸ مشاورت ۱۹۴۴ء چھٹی لے سکے اس حق سے فائدہ اُٹھا کر مجلس مشاورت میں شامل ہونا اُن کے لئے کوئی بڑی بات نہیں پس آئندہ کے لئے تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں۔اور موجودہ بجٹ کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ دوستوں کی طرف سے جس قدر ترمیمات پیش ہوئی ہیں وہ سب کمیٹی بجٹ کے سپر د کر دی جائیں۔کمیٹی کسی آئندہ اجلاس میں ان ترمیمات پر غور کر کے مناسب فیصلہ کر دے گی۔اس سب کمیٹی میں علاوہ ممبران تحقیقاتی کمیشن کے سب ناظران سلسلہ شامل ہوں گے۔اسی طرح پیرا کبر علی صاحب ، خان بہا در چوہدری نعمت خان صاحب اور نواب محمد دین صاحب بھی اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔میں اس کمیٹی کے لئے کوئی تاریخ مقرر کر دوں گا اُس وقت یہ تمام دوست جمع ہو جائیں گے اور ان ترمیموں پر غور کر لیں گے۔فی الحال جہاں تک اس بجٹ کا سوال ہے جس پر سب کمیٹی نے کافی غور کر لیا ہے میں اُسی کو پیش کرتا ہوں۔جو ترمیمیں ہیں اُن کے متعلق میں نے ایک سب کمیٹی تجویز کر دی ہے جو بعد میں اُن پر غور کرے گی۔اس وقت ان ترمیموں کے علاوہ اصل بجٹ کا سوال ہے جس پر سب کمیٹی بیت المال کافی غور و خوض کر چکی ہے۔میں وہ بجٹ دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔دوست مجھے رائے دیں کہ آیا اس بجٹ کو منظور کر لیا جائے یا نہیں ؟“ تمام دوست تائید میں کھڑے ہوئے اور حضور نے سب کمیٹی کے پیش کردہ بجٹ کو منظور کرنے کا اعلان فرمایا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - بجٹ میں جو جدید اخراجات ہیں اُن میں سے کچھ تو سب کمیٹی منظور کر چکی ہے اور کچھ اخراجات اُن کے علاوہ بھی میری ہدایت کے مطابق بجٹ میں شامل کئے جاچکے ہیں۔جیسے کالج کا خرچ ہے یا نائب ناظروں کا خرچ ہے یا دیہاتی مبلغین کا خرچ ہے۔میں سب کمیٹی کے اس مجوزہ بجٹ کو دوستوں کی رائے کے مطابق منظور کرتا ہوں۔ایک سب کمیٹی مقرر کر دی گئی ہے جو اُن ترمیموں پر غور کرے گی جو اس وقت دوستوں کی طرف سے پیش ہوئی ہیں۔اگر ان ترمیوں کو منظور کرنے کی وجہ سے بجٹ میں کوئی تغیر پیدا کرنا پڑا تو یہ جائز ہوگا اور اگر سب کمیٹی کسی اضافہ کو رڈ کرے گی تو اُس کو رڈ کر دیا جائے گا۔بہر حال میں ہدایت کرتا ہوں کہ سوائے ترمیموں والے حصہ کے باقی بجٹ کو صدرانجمن احمد یہ فوراً جاری کر دے تا کہ یکم مئی سے اس پر عمل شروع ہو جائے۔ترمیموں والا حصہ ریز رو ر ہے گا اور