خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 67

خطابات شوری جلد سوم ۶۷ مشاورت ۱۹۴۴ء منعقد ہوا کرے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بار بار قادیان آنا اور اس گرانی کے زمانہ میں اخراجات برداشت کرنا بعض طبائع پر گراں گزرتا ہے مگر جوں جوں جماعت بڑھتی چلی جائے گی اِن امور کو برداشت کرنا پڑے گا۔بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ کسی وقت وہ زمانہ بھی آجائے جب بعض لوگوں کو شوری کے لئے اپنے اکثر اوقات فارغ کر کے مستقل طور پر قادیان میں ہی رہنا پڑے۔جیسے پارلیمنٹوں کے ممبروں کو اپنے اوقات خرچ کرنے پڑتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر سلسلہ کے اہم امور پر غور نہیں ہو سکے گا۔بہر حال وہ وقت تو جب آئے گا دیکھا جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم ایسٹر کی تعطیلات کے دنوں میں جو مجلس شوری منعقد کرتے ہیں وہ بعض دفعہ تمسخر بن کر رہ جاتی ہے کیونکہ سلسلہ کے جتنے معاملات ہوتے ہیں اُن پر سنجیدگی اور عمدگی سے غور نہیں کیا جا سکتا۔میں مانتا ہوں کہ کچھ وقت ضائع بھی ہو جاتا ہے اور جہاں ایسی خرابی ہو وہاں دوستوں کو روکنا ضروری ہوتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض ضروری بحثوں کو تنگی وقت کی وجہ سے ترک کرنا پڑتا ہے اور بجٹ پر عمدگی کے ساتھ غور نہیں ہوسکتا۔سال میں دو دفعہ مجلس شورای ان حالات میں میں فیصلہ کرتا ہوں کہ آئندہ سال میں دو دفعہ مجلس شوری منعقد ہوا کرے۔ایک دفعہ تو انہی ایسٹر کی تعطیلات میں اور اس میں مقدم بجٹ کو رکھا جائے اور سب سے پہلے اسی پر غور ہو۔اگر بجٹ پر غور کرنے کے بعد کوئی وقت بچے تو دوسرے امور کو بھی لے لیا جائے ور نہ نہیں۔اور جب دوسرے معاملات ادھورے رہ جائیں یا بالکل ہی رہ جائیں تو جون، جولائی میں کسی وقت دوسری مجلس مشاورت منعقد کی جائے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ ایسے ایام ہوں جب سرکاری طور پر تعطیلات ہوا کرتی ہیں کیونکہ اس میں ہر جماعت کی طرف سے ایک ایک یا دو دو نمائندہ بھی آسکتے ہیں۔اب تو بعض دفعہ ایک ایک جماعت کی طرف سے تین تین چار چار نمائندے آ جاتے ہیں اور اگر کوئی بڑا شہر ہو تو وہاں کے نمائندے اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں لیکن جون ، جولائی یا اگست کے ایام میں اگر سرکاری طور چھٹیاں نہ ہوں تو ہر جماعت کی طرف سے ایک ایک نمائندہ کا آنا بھی کافی ہوسکتا ہے، گورنمنٹ کے ملازم بھی ایسے موقع پر آسکتے ہیں۔آخر ہر شخص کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ سال میں دس بیس روز کی