خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 62

خطابات شوری جلد سوم ۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء اُنہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے انہیں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ یہ اصلاحات فرمائی ہیں، ان اصلاحات کے بغیر اسلام کبھی زندہ نہیں ہو سکتا تھا۔مثال کے طور پر میں نے اُنہیں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسیح ناصری کی وفات کا مسئلہ پیش کیا حالانکہ سب مسلمان یہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔میری یہ بات سُن کر وہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کہنے لگیں آپ عجیب بات کہتے ہیں، دنیا میں کون مسلمان ہے جو حیات مسیح کا قائل ہو۔سب مانتے ہیں کہ حضرت مسیح مر چکے ہیں۔اب جو شخص تمام مسلمات کے خلاف اس طرح کہہ دے اُسے کیا جواب دیا جا سکتا ہے۔میں نے اُن کو کہا کہ آپ اپنے والدین کو خط لکھیں اور دریافت کریں کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟ آپ کے والدین تو ہمیشہ ہم سے اسی بات پر جھگڑتے رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور تم انہیں وفات یافتہ تسلیم کرتی ہو۔پرانی کتابیں موجود ہیں جن میں لوگوں نے تسلیم کیا ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں۔اس پر وہ کہنے لگیں وہ کتا بیں آپ کی اپنی لکھی ہوئی ہوں گی ہماری کتابوں میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔جس قوم میں اس قسم کی ڈھٹائی پیدا ہو جائے اُس کے لئے اپنا لٹریچر بدل لینا کون سی بڑی بات ہے۔گو وہ اس لٹریچر کے متعلق بھی جو ہم اکٹھا کریں غالباً یہی کہہ دیں گے کہ یہ تم نے خود چھپوا لیا ہو گا۔مگر بہر حال سب سے مضبوط حجت تو وہ لٹریچر ہی ہوسکتا ہے۔دوسری بات ناسخ و منسوخ کے متعلق میں نے پیش کی اور کہا کہ شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے بعض پارے بالکل غائب ہیں۔میری یہ بات سنتے ہی وہ کہنے لگے آپ تو شیعوں پر اتہام لگاتے ہیں، وہ قرآن کریم کو بالکل مکمل مانتے ہیں۔میں نے اُن کو پھر وضاحت سے سمجھایا تو اُن میں سے بعض نے اتنی دلیری سے جھوٹ بولا کہ میں حیران ہو گیا۔اُنہوں نے کہا ہمارے بعض رشتہ دار خود شیعہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ شیعوں کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآن بالکل محفوظ ہے۔اس سے بڑھ کر ڈھٹائی اور کیا ہوسکتی ہے۔پھر عیسائیوں کے متعلق میں نے کہا کہ وہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیت کے اس بنیادی مسئلہ کو بیخ وبن سے اکھیڑ