خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 61

خطابات شوری جلد سوم ۶۱ مشاورت ۱۹۴۴ء آخر فیصلہ کثرتِ رائے کے مطابق ہی ہو گا۔بہر حال سب کمیٹی اضافہ اخراجات کے متعلق جو منظور یاں دے سکتی تھی وہ اُس نے دے دی ہیں۔اب ناظروں کا اختیار نہیں کہ وہ رڈ شدہ تجاویز کو دوبارہ پیش کریں۔ہاں ممبروں کو اختیار ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بعض نظارتوں نے جو مطالبات کئے ہیں وہ درست ہیں مثلاً امور عامہ کا کلرک اُڑا دیا گیا ہے تو یہ غلطی ہے کلرک ضرور ہونا چاہئے۔یا اسی قسم کے اور امور پیش کرنا چاہیں تو ممبروں کی طرف سے یہ امور زیر بحث آ سکتے ہیں وہ اس بارہ میں ترمیم پیش کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ فلاں مد میں زیادتی ہونی چاہئے جیسے وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فلاں مد میں اتنی کمی ہونی چاہئے۔باقی رہا اُس سو روپیہ کا سوال جو نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے کتب حوالجات خریدنے کے لئے بجٹ میں رکھا گیا ہے۔میرے نزدیک یہ تو کوئی چیز ہی نہیں یہ اتنی معمولی رقم ہے کہ اس سے وہ مقصد ہرگز پورا نہیں ہو سکتا جس کے لئے یہ اضافہ کیا گیا ہے۔میں متواتر ہیں سال سے جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ مخالفوں کا لٹریچر غائب کیا جا رہا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو اکٹھا کر کے اپنی لائبریریوں میں محفوظ کر لیں۔اگر ہم نے اس لٹریچر کو مہیا نہ کیا تو کچھ دنوں کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں لوگ ان کا ذکر پڑھیں گے اور انہیں دنیا میں وہ لٹریچر نظر نہیں آئے گا جو ہمارے خلاف شائع ہوا تو وہ سمجھیں گے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غلط لکھا ہے۔اس بارہ میں میں نے مخالفوں کی ذہنیتیں یہاں تک گری ہوئی دیکھی ہیں کہ گزشتہ دنوں جب میں لاہور میں تھا ایک دن میڈیکل کالج کے کچھ طالب علم مجھے ملنے کے لئے آئے۔اُن میں سوائے ایک لڑکے کے باقی سب لڑکیاں تھیں۔لڑکا فورمن کرسچن کالج کا تھا اور لڑکیاں سب میڈیکل کالج میں پڑھتی تھیں۔ان کے آنے سے پہلے جب میں نماز پڑھا رہا تھا، نماز کا آخری سجدہ تھا کہ یکدم مجھے الہام ہو ا عظمت کے ٹھو کے ہیں۔اس سے پہلے بھی کوئی فقرہ تھا جو مجھے بھول گیا مگر وہ اسی قسم کا تھا۔شہرت کے طالب ہیں۔عظمت کے ٹھو کے ہیں میں حیران ہوا کہ نہ معلوم کون شخص آج مجھ سے ملنے والا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد میڈیکل کالج کے چند طالب علم آئے اور انہوں نے مجھ سے ملاقات کا وقت لیا۔گفتگو کے دوران میں