خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 60
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء جگہوں میں بیٹھے ہوئے تھے اور ناظر صاحب بیت المال بحیثیت سیکرٹری سب کمیٹی اور صدر ب سب کمیٹی بیت المال دونوں اپنی ذمہ واری پر فیصلہ کرتے رہے۔یہ ایک نقص تھا جو واقعہ ہوا۔اس کی طرف ایک ممبر نے توجہ بھی دلائی ہے کہ اگر سب ممبر ا کٹھے ہوں تو ممکن ہے وہ ناظران سلسلہ کے بیانات سُن کر اپنی رائے بدل لیں۔پس آئندہ کے متعلق میری تجویز یہ ہے کہ سب کمیٹی بیت المال کے ممبران جب اضافہ بجٹ کی رقوم کے متعلق ناظران سلسلہ کے بیانات سن کر اپنی رائے بدلنا چاہیں تو وہ ایک چٹ بھجوا دیا کریں کہ اس بارہ میں فیصلہ سنانے سے قبل ہماری رائے بھی دریافت کر لی جائے۔میری دوسری تجویز یہ ہے کہ جب سب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ پیش ہو تو سارے ممبر اکٹھے ہو کر پاس پاس بیٹھ جائیں۔اس صورت میں صدر سب کمیٹی اُن کے سامنے معاملات بہت جلد رکھ سکتا اور ان کی رائے معلوم کر سکتا ہے۔پس آئندہ جب کسی محکمہ کے متعلق سب کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے تو سب ممبر سٹیج کے پاس جمع ہو جایا کریں تا کہ اگر وہ اپنی رائے بدلنا چاہیں تو مشورہ دے سکیں۔دوسرا امر یہ نوٹ کر لیا جائے کہ سب کمیٹی بیت المال کی طرف سے جب بجٹ پر غور ہو تو متعلقہ ناظروں کو وہ لکھ کر بھیجوا دیا کریں کہ چونکہ بجٹ میں آپ کے فلاں فلاں معاملات زیر بحث آئیں گے اس لئے آپ خود تشریف لے آئیں یا اپنا نمائندہ فلاں وقت تک بھجوا دیں تا کہ ہم آپ کے محکمہ کے دلائل سُن کر اس بارہ میں کوئی فیصلہ کر سکیں اور ہمیں معلوم ہو کہ زیادتی اخراجات کیوں اور کس غرض کے لئے کی گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر اس طرح کام کیا جائے تو وہ مشکلات جو اس وقت پیدا ہوئی ہیں انشاء اللہ دُور ہو جائیں گی۔بہر حال جو غلطی ہو چکی ہو چکی ، آئندہ کے لئے جو طریق مناسب ہے وہ میں نے بیان کر دیا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بجٹ انجمن میں پیش ہو تو ہر ناظر اپنا اپنا نقطہ نگاہ پوری وضاحت سے پیش کر دے اور ناظر بیت المال اُن دلائل کو نوٹ کر لے۔جب سب کمیٹی کے سامنے بجٹ پیش ہو تو وہ ان دلائل کو پورے زور سے کمیٹی کے سامنے ویسا ہی پیش کرے جیسے خود متعلقہ ناظر کمیٹی میں بیٹھا ہوا ہے۔کمیٹی والے بے شک جرح کریں اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ