خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 59
خطابات شوری جلد سوم ۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کہ ہمارے پاس چھپیس کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ ہو۔پس کمریں کس لو اور اشاعت اسلام کی خاطر ایک مضبوط بنیاد قائم کرنے کی کوشش کرو۔جب یہ پہلا قدم اُٹھا لو گے اور پچپیس لاکھ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم کر لو گے تب تم میں سے کئی لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق عطا فرما دے گا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی جانوں کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں اور اُس کی ابدی رضا اور دائمی جنت کے مستحق ہو جائیں۔“ بجٹ اخراجات کے سلسلہ میں ہدایات حضور کے ارشاد پر کرم ناظر صاحب بیت المال نے صدر انجمن احمدیہ کے سالانہ اخراجات کا ނ بجٹ پیش کیا۔جب چند ناظر صاحبان اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تو حضور نے فرمایا : - اس دفعہ کے بجٹ میں پھر بعض نقائص رہ گئے ہیں۔میں نے یہ تو تجویز کیا تھا کہ اس سال کا بجٹ ناظر صاحب بیت المال بنا ئیں کیونکہ گزشتہ سال انجمن نے بجٹ بنانے میں بہت دیر لگا دی تھی مگر ناظر صاحب نے بھی قریباً اتنی ہی دیر لگا دی اور پھر مزید نقص یہ ہوا کہ انجمن میں بھی بجٹ پیش نہ کیا گیا حالانکہ میرا مطلب یہ نہ تھا کہ انجمن میں بجٹ پیش ہی نہ ہو۔بہر حال بجٹ بغیر انجمن میں پیش ہونے کے یہاں آ گیا اور چونکہ محکموں کی طرف۔اضافہ کی جو ر قوم پیش کی گئی تھیں اُن کی وجوہ سب کمیٹی کو معلوم نہیں تھیں اس لئے سب کمیٹی کو وجوہ کے معلوم کرنے کے لئے بہت سا وقت یہاں صرف کرنا پڑا حالانکہ سب کمیٹی والوں کا فرض تھا کہ جب اُنہوں نے بجٹ پر غور کیا تھا تو اُسی وقت متعلقہ ناظروں کو پیغام بھجوا دیتے کہ آپ خود تشریف لے آئیں یا اپنا کوئی نمائندہ بھجوائیں جو اضافہ اخراجات کے دلائل بتلائے تا کہ فیصلہ کیا جا سکے کہ یہ رقوم رکھی جائیں یا اُن کو کاٹ دیا جائے۔مگر چونکہ انہوں نے ایسا نہ کیا اس لئے جو کمیٹی کا کام تھا وہ ہم سب کو کرنا پڑا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دوست خاموش بیٹھے رہے کیونکہ ان سے رائے لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔پھر ایک اور نقص یہ بھی واقعہ ہو گیا کہ سب کمیٹی کے تمام ممبر اکٹھے بیٹھے ہوئے نہیں تھے۔اگر ا کٹھے بیٹھے ہوتے تو سب سے رائے لی جا سکتی تھی اور پھر اکثریت کے مشورہ کے مطابق فیصلہ ہوتا کہ فلاں رقم رہنے دی جائے یا اُس کو اُڑا دیا جائے مگر اب ممبران سب کمیٹی تو متفرق