خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 716
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء چڑھنے لگے۔نصف فاصلہ پر پہنچے تو جرنیل نے کہا ہمیں دشمن تک اس کی بے خبری کے عالم میں پہنچنا ہے اس لئے تم اپنے ٹوٹ اُتار لو رستہ میں پتھروں کی وجہ سے پاؤں زخمی ہو گئے تو سپاہیوں نے بُوٹ پہننے کی اجازت چاہی مگر اُس نے اجازت نہ دی۔نصف فاصلہ سے کچھ آگے گئے تو اچانک دشمن کی ایک گولی جرنیل کے سینہ میں آ لگی۔سپاہیوں نے اُسے اُٹھا کر کسی امن کی جگہ میں لے جانا چاہا تو اُس نے کہا میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے یہیں پڑا رہنے دو اور اگر میں مرجاؤں تو شام کو مجھے اس قلعہ کی چوٹی پر دفن کرنا ورنہ میری لاش کو کتوں کے آگے پھینک دینا۔سپاہی اپنے محبوب جرنیل کے اس فقرہ کی وجہ سے مجنون ہو گئے اور اس کے ماتحت افسروں نے پاگلوں کی طرح آگے بڑھنا شروع کیا اور شام کو قلعہ کی چوٹی پر جھنڈا لہرا دیا۔حالانکہ دشمن کا خیال تھا کہ ٹرکی اس قلعہ کی ابتدائی کڑیاں بھی چھ ماہ میں فتح نہیں کر سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے لڑکی کی مدد کی اور اُس نے نہ صرف ابتدائی کڑیاں ہی فتح کیں بلکہ تین دن میں قلعہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔اسی طرح مسلمانوں میں اور بھی کئی غیور بادشاہ پیدا ہوئے ہیں مثلاً ہندوستان میں احمد شاہ ابدالی اور سلطان ٹیپو جیسے غیور مسلمان پیدا ہوئے مگر ان غیور بادشاہوں کے ساتھ غدار بھی ہمیشہ پیدا ہوتے رہے۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں جب سمرنا میں دشمن نے فوجیں اُتاریں اور ایک اسلامی جرنیل کو اُن کا مقابلہ کرنے کیلئے کہا گیا اُن دنوں میں ”ڈیلی نیوز“ منگوایا کرتا تھا۔اس کے نامہ نگار نے لکھا کہ میں نے میدان جنگ میں ایک ایسا درد ناک نظارہ دیکھا ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتا۔میں نے دیکھا کہ ترک جرنیل جو دشمن کی فوجوں سے لڑ رہا تھا میدان سے ہٹ کر ایک پتھر پر بیٹھا ہے اور رو رہا ہے۔میں نے اس کے رونے کا سبب دریافت کیا تو اُس نے کہا ان کارتوسوں کو دیکھو، ان میں بارود کی بجائے بورا بھرا پڑا ہے میں دشمن کو مار نہیں سکتا۔اگر ان کارتوسوں میں بارود ہوتا تو میں آج دشمن کو شکست دے دیتا لیکن اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔غرض جہاں اسلام میں دلیر اور غیور افراد گزرے ہیں وہاں اس میں غدار بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ ان کارتوسوں میں بارود کی بجائے بُو را بھرنے والا کوئی غدار ہی تھا جس نے ایسے لوگوں کو ٹھیکہ دے دیا جنہوں نے کارتوسوں میں بارود کی بجائے بُورا بھر دیا۔