خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 715
خطابات شوری جلد سوم ۷۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء کوشش کریں گے تو کامیاب نہیں ہوں گے۔چنانچہ وہ کئی بار افسران کے پاس گئے لیکن وہ نہ مانے اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جب گرمی کا دباؤ ان پہاڑیوں پر پڑتا ہے تو وہ تپنے لگ جاتی ہیں اور پھر اس کا اثر سارے شہر پر پڑتا ہے۔بہر حال یہ ایک غلطی تھی جو نواب صاحب مرحوم سے ہوئی اگر پہاڑیاں بھی لے لی جاتیں اور وہاں درخت لگا دیئے جاتے تو یہ ایک اعلیٰ سیر گاہ بن جاتی جسے دیکھنے کے لئے لوگ دُور دُور سے یہاں آتے۔بہر حال ہمیں شوریٰ کا اجلاس ایسے وقت میں رکھنا چاہئے جب خدائی قانون کے ماتحت گرمی کا امکان نہ ہو۔ہم قانونِ قدرت کے تابع اور ماتحت ہیں ، اس پر حاکم نہیں۔تو کل کے ثمرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سلطان عبدالحمید آف ٹرکی کی ایک بات بہت پسند ہے۔جب یونان نے حملہ کیا تو سلطان عبد الحمید نے اپنے وزیروں کو بلا کر مشورہ کیا وہ لوگ لڑنا نہیں چاہتے تھے اس لئے اُنہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے یہ انتظام بھی کر لیا ہے اور وہ انتظام بھی کر لیا ہے لیکن فلاں بات نہیں ہو سکی۔وہ بادشاہ کو یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے انہوں نے کوئی بہانہ ہی بنانا تھا سو اُنہوں نے اس طرح سلطان عبدالحمید کے دل کو جنگ سے پھیرانے کی کوشش کی۔سلطان عبدالحمید نے کہا اگر ایک بات نہیں ہوئی تو اُسے خدا پر چھوڑ دو، آخر ہمیں خدا کے لئے بھی تو کوئی خانہ خالی رکھنا چاہئے سارے خانے ہم نے ہی تو پر نہیں کرنے۔چنانچہ اس کے ایمان کا یہ نتیجہ ہوا کہ گجا تو یہ حالت تھی کہ یورپ سمجھتا تھا ٹر کی فوجیں ایک قلعہ بھی فتح نہیں کر سکتیں اور کجا یہ کہ اُنہوں نے چھ ماہ میں ہی وہ جنگ جیت لی اور یورپ کی فوجیں جن کا اُنہوں نے یونان سے وعدہ کیا تھا اُس کی مدد کو بھی نہ پہنچ سکیں۔اسی جنگ میں ایک جرنیل کو کمانڈرانچیف نے حکم دیا کہ تم فلاں قلعہ فتح کرو اور اس مہم کے لئے اُس نے تین دن کا عرصہ مقرر کیا۔دو دن تک اُس جرنیل نے پوری کوشش کی لیکن وہ قلعہ فتح کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔تیسرے دن اُس نے اپنے سپاہیوں کو بلایا اور کہا کہ ہم نے اس قلعہ کو آج شام تک فتح کرنا ہے۔میں اس قلعہ پر چڑھتا ہوں تم سب میرے پیچھے پیچھے آؤ۔چنانچہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھا، سپاہی بھی بہادری کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے