خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 717
خطابات شوری جلد سوم 212 مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اس قسم کے غداروں سے محفوظ رکھے اور ایسے وفا دار لوگ عطا کرے جو اسلام کی خاطر ہمیشہ سینہ سپر رہنے والے ہوں اور جن کو اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کی پرواہ نہ ہو۔وہ میدان میں جائیں اور اسلام کی خاطر اپنی جانیں لڑا دیں۔جنگِ اُحد میں جب یہ بات مشہور ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ صحابہ کا اخلاص و فدائیت علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے اور شہادت کی خبر سُن کر مسلمان سپاہیوں کے قدم اُکھڑ گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گڑھے میں سے نکالا گیا اور مسلمان پھر آپ کے ارد گرد پروانہ وار جمع ہو گئے تو آپ نے ایک انصاری صحابی کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔صحابہ ان کی تلاش میں نکل گئے۔اُنہوں نے دیکھا کہ وہ ایک جگہ سر سے پیر تک زخمی پڑے ہیں اور نزع کی حالت میں ہیں۔وہ ان کے پاس گئے اور اُنہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو دے دیں ہم پہنچا دیں گے۔اُس صحابی میں قربانی کی ایسی عظیم الشان رُوح پائی جاتی تھی کہ اُنہوں نے کہا اپنا ہاتھ بڑھاؤ اور اقرار کرو کہ تم میرا یہ پیغام میرے عزیزوں تک ضرور پہنچا دو گے۔اُنہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور پیغام پہنچانے کا اقرار کیا۔اس کے بعد اُس صحابی نے جبکہ وہ دم توڑ رہے تھے کہا میرے بیٹوں ، بھائیوں ، بھتیجوں اور دامادوں کو کہہ دینا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ قیمتی چیز دُنیا میں اور کوئی نہیں جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی آپ کی حفاظت کی کوشش کی اور اب جبکہ میں مر رہا ہوں میری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو قربان کر دو مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کسی دشمن کو نہ پہنچنے دولے اس طرح غزوہ بدر کے موقع پر انصار نے جس فدائیت کا نمونہ دکھایا ہے وہ بھی ان کے عشق کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انصار کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر مدینہ پر کسی نے حملہ کیا تو انصار آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر حملہ کیا گیا تو وہ لڑائی میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے