خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 714

خطابات شوری جلد سوم ۷۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء میرے جیسے کمزور انسان کے لئے نا قابل برداشت ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے مجھے تنور میں دھکا دے دیا ہے۔صدر انجمن احمد یہ والوں نے سمجھ لیا کہ وہ موسم ہی کیا ہے جو ان کے قبضہ میں نہ ہو۔آخر وجہ کیا تھی کہ مجلس شوریٰ کو کچھ عرصہ پہلے نہ رکھ لیا گیا۔اگر یہ اجلاس مہینہ بھر پہلے رکھ لیا جاتا تو لوگ گرمی کی شدت سے بچ جاتے اور نقصان بھی کوئی نہ ہوتا۔پاکستان کے قیام سے پہلے یہ اجلاس اِن دنوں میں اس لئے رکھا جاتا تھا کہ اِن دنوں ایسٹر کی تعطیلات ہوتی تھیں اور ان کی وجہ سے یہاں آنے والے نمائندگان کو علیحدہ چھٹیاں نہیں لینی پڑتی تھیں لیکن اب تو یہ تعطیلات نہیں ہوتیں اور نمائندگان کو اس موقع پر بہرحال چھٹی لینی پڑتی ہے اس لئے اب یہ ضروری نہیں کہ مجلس مشاورت کا اجلاس ان دنوں کیا جائے اب ہم چاہیں تو اسے مارچ کے مہینہ میں بھی کر سکتے ہیں۔بہر حال آئندہ مجلس شوریٰ کا اجلاس مارچ کے اوائل میں منعقد کرنا چاہئے تا کہ گرمی کی شدت سے بچا جا سکے۔اگلے سال مارچ کے پہلے عشرہ میں رمضان شروع ہو رہا ہے۔اگر ہم رمضان سے پہلے مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد کر لیں تو میرے نزدیک زیادہ بہتر ہوگا ورنہ اس قسم کی گرمی میں بیمار آدمی تو بالکل بیکار ہو جاتا ہے۔اس مجلس شوریٰ میں کشمیر کی جماعتوں کے نمائندے بھی آتے ہیں اور ان کے علاوہ بعض ایسی جماعتوں کے نمائندے بھی آتے ہیں جن کے علاقہ کی آب و ہوا ہمارے علاقہ کی آب و ہوا سے نسبتاً ٹھنڈی ہوتی ہے مثلاً سمندر کے کنارے کے لوگ ہیں اسی طرح ملتان وغیرہ کے علاقوں میں بھی رات کو ٹھنڈ ہو جاتی ہے لیکن ربوہ میں شدید گرمی پڑتی ہے۔نواب محمد دین صاحب مرحوم نے یہ زمین خریدی تھی جب وہ اس زمین کے حصول میں کامیاب ہو گئے تو وہ ہنستے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں نے سلسلہ کا پندرہ بیس ہزار روپیہ بچا لیا ہے۔گورنمنٹ نے ہمیں پہاڑیاں دینے کی کوشش کی تھی لیکن میں نے وہ حصہ خریدنے سے انکار کر دیا میں نے کہا آپ نے سلسلہ کا پندرہ ہیں ہزار روپیہ بچایا نہیں بلکہ آئندہ جو لوگ یہاں آ کر بسیں گے اُنہیں آپ نے ان پہاڑوں میں قید کر دیا ہے۔ان پہاڑوں پر جب دھوپ پڑے گی تو اس کی تپش کا اثر شہر والوں پر بھی پڑے گا اور وہ گرمی کی وجہ سے تکلیف اُٹھائیں گے۔نواب صاحب نے کہا میں ابھی انتظام کر لیتا ہوں اور پہاڑیاں بھی خرید لیتا ہوں۔میں نے کہا اب آپ ساری عمر بھی ان پہاڑیوں کو خریدنے کی