خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 713
خطابات شوری جلد سو ۷۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء منعقده ۲۶،۲۵ را پریل ۱۹۵۸ء) پہلا دن ماعت احمدیہ کی انتالیسویں مجلس مشاورت ۶،۲۵ ۲ اپریل ۱۹۵۸ء کو تعلیم الاسلام کالج کے ہال میں منعقد ہوئی۔اس کا پہلا اجلاس ۲۵۔اپریل کو عصر کے بعد پانچ بج کر پچاس منٹ پر شروع ہوا۔تلاوت قرآن مجید کے بعد دُعا سے متعلق حضور نے فرمایا : - ” دوست میرے ساتھ مل کر دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو بابرکت فرمائے اور ہم سے ایسی سکیمیں منظور کروائے جو دُنیا بھر میں اسلام کو غلبہ اور عظمت دینے والی ہوں اور پھر وہ ہم سے ایسے وعدے کروائے جنہیں ہم پورا بھی کریں تا کہ اسلام کا خزانہ ہمیشہ بھر پور رہے اور وہ کفر کے آگے کبھی سرنگوں نہ ہو۔“ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل تقریر 66 افتتاحی تقریر فرمائی:- ”سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ساری چیزوں کو اپنے قبضہ و تصرف میں سمجھتا ہے وہ کبھی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔خدا تعالیٰ کا خانہ خالی رکھنا بہر حال ضروری ہوتا ہے مگر ہمارے کارکنان نے اس اصول کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس دفعہ مجلس شوری شدید گرمی کے موسم میں رکھ لی ہے۔شاید صدر انجمن احمدیہ کے ناظروں نے یہ خیال کر لیا کہ گرمی بھی ان کے قبضہ میں ہے اور وہ اس کے اثر سے محفوظ رہیں گے حالانکہ اس سال اتنی شدید گرمی پڑ رہی ہے کہ