خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 709

خطابات شوری جلد سو 2۔9 مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء چار پانچ سال لگ جائیں گے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے جتنے تجربے ہوئے ہیں اس سے یقینی اور سو فیصدی فائدہ ہوا ہے۔ڈاکٹر حیران تھے اور کہتے تھے کہ آپ کا فالج عجیب ہے۔فالج والوں کے ہاتھ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔میرے ہاتھ کی صرف جس میں فرق ہے۔ذراسی گرم چیز بھی ہاتھ میں پکڑ وں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں نے آگ کا انگار ہاتھ میں پکڑ لیا ہے۔بہر حال اگر حقیقی طور پر یورپ جانے سے فائدہ ہو تو مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بیماری کا علاج کراؤ لیکن پہلے مجھے بھی تو نظر آنا چاہئے کہ کوئی فائدہ ہوسکتا ہے۔وہاں میں نے جتنے ڈاکٹروں سے پوچھا ہے اُن کا یہی جواب آیا ہے کہ آپ کو انہی دواؤں سے فائدہ ہو گا جو آپ اس وقت استعمال کر رہے ہیں۔پس اگر بیماری کا کچھ حصہ باقی ہے تو وہ دعاؤں کے ساتھ دور ہو گا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق دینا اُس کے مدنظر ہوگا تو وہ تو فیق دے دے گا۔میں تو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پڑھ کر حیران ہوا کرتا تھا کہ آپ کے اس الہام کا کیا مطلب ہے کہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ کا اس کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں کہ وہ رجس کو تم سے اچھی طرح دُور کر دے۔جب مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو میں نے سمجھا کہ یہ بیماری آئی ہی کئی قسم کے رجس دور کرنے کے لئے ہے۔مثلاً ایک رجس تو یہ دور ہوا کہ پہلے احمدی سمجھتے تھے کہ میں نے پانچ چھ سو سال زندہ رہنا ہے۔بیماری آئی تو انہیں ہوش آ گیا کہ ہم بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔تو ایک رجس تو یہ دُور ہوگا کہ جماعت میں یہ غلط خیال پیدا ہو گیا تھا کہ خلیفتہ اسی قیامت تک زندہ رہیں گے ہمیں کوئی فکر نہیں، یہ ہمارا کام کرتے رہیں گے۔دوسرا ر جس یہ تھا کہ خلیفہ اسیح الاوّل کی اولاد کو یہ خیال تھا کہ ہم خلیفہ بنیں گے۔اگر میں بیمار نہ ہوتا اور اُن کو پتہ نہ لگتا کہ میں پاکستان سے باہر گیا ہوں تو وہ اس طرح دلیری سے آگے نہ آتے۔پس اس واقعہ نے إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرّجُسَ أَهْلَ الْبَيْتِ والی بات کو پورا کر دیا۔خدا تعالیٰ کا منشا یہی ہے کہ وہ ان باتوں سے جماعت کو ہوشیار کرتا رہے۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد جب اخبار میں