خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 708

خطابات شوری جلد سوم 2۔1 مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کہ کیا ہو گیا ہے اور میرا ہاتھ کدھر چلا گیا ہے۔غرض ان چیزوں کو کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہوگا۔پس جب تک مجھے یقین نہ ہو جائے کہ یورپ میں کوئی نیا علاج نکل آیا ہے اُس وقت تک میرا وہاں جانا مشکل ہے۔پچھلے دنوں اخباروں میں چھپا تھا کہ فالج کا علاج نکل آیا ہے۔مگر میں نے کراچی میں جا کر پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ابھی وہ علاج پانچ چھ سال میں مکمل ہوگا۔تو اگر یہ پتہ لگ جائے کہ وہاں علاج ہے جس سے مجھے فائدہ ہو سکتا ہے تو میں تو وہاں سے امریکہ بھی جانے کو تیار ہو گیا تھا مگر پھر وہاں سے پتہ لگا کہ امریکہ میں جو علاج ہے وہ وہی ہے جو یورپ میں ہے اور اس سے کوئی فائدہ آپ کو نہیں ہوسکتا اس لئے میں سوئٹزر لینڈ چلا گیا اور وہاں دوبارہ ڈاکٹروں سے اپنا معائنہ کرایا تو اُنہوں نے بھی بتایا آپ کو امریکہ میں علاج سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے۔امریکہ میں بوسٹن بڑی بھاری یو نیورسٹی ہے۔وہی ڈاکٹر جس سے میں علاج کرا رہا تھا اُس نے مجھے بتایا کہ میں وہیں سے آ رہا ہوں اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کو وہاں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔آپ کو خود زور لگانا چاہئے کہ آپ اچھے ہو جائیں۔آپ جب تک یہ خیال نہ کریں کہ میں اچھا ہوں اُس وقت تک آپ کو کوئی دوائی فائدہ نہیں دے سکتی۔میں نے کہا جب مجھے نظر آتا ہے کہ میں بیمار ہوں تو میں اپنے آپ کو تندرست کیسے خیال کرلوں؟ وہ کہنے لگا چاہے آپ کو یہی نظر آتا ہے کہ آپ بیمار ہیں لیکن جب تک آپ یہ خیال نہیں کریں گے کہ آپ تندرست ہیں، اُس وقت تک آپ تندرست نہیں ہو سکتے۔میں نے کہا اچھا پھر آپ مجھے ایسی دوائی دیں جس کے استعمال سے میں بُھول جاؤں کہ میں بیمار ہوں تو وہ کہنے لگا یہی بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس کا ہمیں پتہ نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اگر تو کوئی فائدہ نظر آتا ہو تو پھر تو میں وہاں جانے کی کوشش بھی کروں ورنہ خواہ مخواہ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے جُدا بھی ہوں اور کوئی فائدہ بھی نہ ہو تو وہاں جانے کا فائدہ کیا ہے۔میں اس ٹوہ میں لگا رہتا ہوں کہ اس بیماری کا کوئی علاج نکل آئے تو میں اُس سے فائدہ اُٹھاؤں۔رسالوں اور اخباروں میں اس بیماری کے متعلق جو مضامین چھپتے ہیں میں اُن کا خیال رکھتا ہوں۔پچھلے دنوں امریکہ سے ایسی خبریں آئی تھیں کہ فالج کا بڑا یقینی علاج نکل آیا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی زیر تجربہ ہے ابھی اس پر مزید