خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 676
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ایک شق یہ بھی ہے کہ اگر کوئی جائیداد آئندہ ثابت ہوگی تو اس پر بھی میری وصیت حاوی ہو گی۔ہاں اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میں مرنے تک شادی نہیں کروں گی تو یہ درست نہیں ہو گا۔بہر حال لجنہ کے سوال کا میں نے جواب دے دیا ہے کہ غیر شادی شدہ عورتیں ہمیشہ غیر شادی شدہ نہیں رہیں گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک دو سال کے بعد ہی اُن کی شادی ہو جائے۔اگر خدانخواستہ ایسا حادثہ پیش آجائے کہ کوئی لڑکی وصیت کرنے کے بعد بغیر شادی کے فوت ہو جائے تو وہ چاہے ایک روپیہ وصیت میں لکھوائے ہم بہر حال اُسے تسلیم کریں گے کیونکہ اُس نے اپنے اخلاص کا ثبوت دے دیا اور جس نے اپنا اخلاص ثابت کر دیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ اُس کی وصیت کو ر ڈ کریں۔ہماری لڑکیوں نے بچپن میں جب وصیت کی تو وہ ہم سے آکر مطالبہ کرتی تھیں کہ کچھ روپے ہمیں دے دیں تا کہ اُن پر ہم وصیت کریں۔اسی طرح میری لڑکیوں اور لڑکوں نے وصیت کی۔وہ آ کر کچھ روپیہ مانگ لیتے تھے اور اُسے جائیداد شمار کر کے وصیت کر دیتے تھے۔بیویوں کے حقوق اب تو میں نے اپنی ساری جائیدادلڑکوں اور لڑکیوں میں تقسیم کر دی ہے اور بیویوں کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق میں نے ایک ایک مکان بنا دیا ہے، بعض مکانات مکمل ہو چکے ہیں اور بعض ابھی بن رہے ہیں بچوں کو بھی میں نے اسی طرح مکانات بنوا دیئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے سب سے پہلا کام یہی کیا تھا کہ ہر بیوی کو الگ الگ مکان بنوا دیا۔مجھے بھی بیماری کے دوران سارا سال یہ وہم رہا کہ اگر میں مرگیا تو میری بیویوں کا کیا بنے گا کیونکہ میں نے یہ نظارہ دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی ناظر فوت ہوتا ہے اُس کی بیوی دوڑی دوڑی میرے پاس آتی ہے کہ مجھے صدر انجمن احمد یہ موجودہ مکان سے باہر نکال دے گی مجھے اُس وقت بڑا رحم آتا ہے کہ اِدھر اُسے اپنے خاوند کی موت کا صدمہ ہے اور اُدھر انجمن بھی کیا کرے۔اُس نے ایک نیا افسر لگانا ہے اور اُسے رہائش کے لئے کوارٹر مہیا کرنا ہے۔بہر حال جب یہ نظارہ مجھے یاد آیا تو میرے دل پر سخت بوجھ پڑا اور میں نے ارادہ کر لیا کہ یورپ سے واپس آکر سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ اپنی ہر بیوی کے لئے ایک ایک مکان بنوا دوں گا تا کہ انہیں میری وفات کے بعد قصر خلافت استعمال نہ کرنا پڑے