خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 675
خطابات شوری جلد سوم ۶۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ہمیں سرگرداں ہونے کی کیا ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ نے ہم کو بتا دیا ہے کہ مہر ضروری ہے اور مہر ایک ایسی جائیداد ہے جس کو کوئی چُھپا نہیں سکتا۔اگر کوئی اُسے چُھپائے گا تو اس منافقت میں تین آدمی شامل ہوں گے۔ایک تو قاضی ہوگا ، ایک خود عورت ہو گی اور ایک اُس کا خاوند ہو گا۔اب یہ کہنا کہ سارا کنبہ ہی منافقوں کا ہے یہ نا جائز بات ہے۔اتنی بدظنی کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔عورت اپنا جو مہر بتائے وہ ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے اور اُس کے خاوند سے وصیت فارم پر دستخط لینے چاہئیں اور تحریر لکھوا لینی چاہئے کہ میں اپنی عورت سے اُس کا مہر بخشواؤں گا نہیں اور اگر بخشواؤں گا تو وصیت کا حصہ خود ادا کر دوں گا اور اگر میری بیوی خود اپنا مہر معاف کرے گی تو میں اُسے بھی سمجھاؤں گا کہ بی بی! تیرا حق وصیت کا حصہ کاٹ کر باقی مہر معاف کرنے کا ہے اس سے زیادہ نہیں۔اور اگر بالفرض وہ سمجھانے کے باوجود بھی معاف کر دے گی تب بھی میں اُسے معاف نہیں سمجھوں گا اور وصیت کا حصہ ادا کروں گا۔اور اگر میں اپنی بیوی کو اُس کا مہر دوں گا تو میں خود اس بات کا ذمہ دار ہوں گا کہ مہر سے وصیت کا حصہ کاٹ کر اُسے دوں۔پس اگر مہر کو محفوظ کر لیا جائے تو پھر میرے نزدیک عورتوں کا سوال حل ہو جاتا ہے۔باقی ہمارے ملک میں بہت تھوڑی عورتیں ہیں جن کی کوئی جائیداد نہیں ہوتی۔زمینداروں کو میں نے ایک دفعہ نصیحت کی تھی کہ وہ اپنی لڑکیوں اور بیویوں کو اپنی جائیداد سے حصہ دیا کریں اور مجھے یاد ہے کہ اُس وقت بعض دوستوں نے اس پر عمل بھی کیا تھا مگر پھر وہ بُھول گئے۔اُنہوں نے سمجھا کہ شاید خدا تعالیٰ کی خوشنودی صرف ایک سال کے لئے ہی ضروری ہے پھر اس کی ضرورت نہیں۔غیر شادی شدہ عورتوں کی وصیت ایک سوال لجنہ نے کیا ہے کہ اگر وصیت کے لئے مہر کی شرط کی گئی تو غیر شادی شدہ عورتوں کی وصیت کے متعلق کیا ہوگا۔سو یا درکھنا چاہئے کہ غیر شادی شدہ عورت جو بھی اپنی جائیداد بتائے گی ہم اُسے تسلیم کر لیں گے۔اگر وہ کہے گی کہ میرے پاس ایک روپیہ ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اُس ایک روپیہ کو ہی تسلیم کر لیں۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ غیر شادی شدہ رہنا منع ہے۔آخر دو چار سال تک تو وہ غیر شادی شدہ رہے گی لیکن اس کے بعد وہ بہر حال شادی کرے گی اور جب وہ شادی کرے گی تو مہر والی صورت پیدا ہو جائے گی کیونکہ وصیت کی