خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 677

خطابات شوری جلد سوم ۶۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کیونکہ وہ صدر انجمن احمدیہ کا ہے اور میری وفات کے بعد انہیں پتہ ہو کہ ہمارا ذاتی مکان ہے اور جس وقت ہم چاہیں گی اپنے مکان میں چلی جائیں گی۔ایک اور سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ:- جس عورت نے مہر وصول کر لیا ہو گا وہ جب وصیت کرے گی اور کہے گی کہ میں مہر لے چکی ہوں تو ہم کہیں گے کہ وصیت کرنے آئی ہو تو اپنے مہر سے ہمارا حصہ اِدھر لاؤ۔اور اگر وہ کہے کہ میں مہر وصول کر کے خرچ کر چکی ہوں تو ہمیں بہر حال اُس پر اعتبار کرنا پڑے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ حضرت اسامہ نے ایک جنگ کے دوران ایک کا فر کو قتل کرنے کے لئے اُس کے پیچھے گھوڑا دوڑایا تو اُس نے کہا صَبَوتُ میں صابی ہو گیا ہوں۔مسلمانوں کو اُن دنوں عام طور پر چونکہ صابی کہا جاتا تھا اُس نے یہی سمجھا کہ مسلمان ہونے کے لئے صابی کے لفظ کا استعمال ہی کافی ہے، مگر حضرت اسامہ نے اُسے قتل کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ حضرت اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تو نے اسے کیوں قتل کیا۔حضرت اسامہ نے کہا یا رسول اللہ ! وہ ڈر کے مارے یہ الفاظ کہہ رہا تھا دل سے مسلمان نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا کہ اسامہ! کیا تو نے اس شخص کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے جھوٹ ہے؟ وہم نے بھی کسی کا دل پھاڑ کر نہیں دیکھا اگر کوئی عورت کہتی ہے کہ میں نے مہر خرچ کر لیا ہے تو ہمیں اُس پر اعتبار کرنا چاہئے اور اگر وہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے مہر وصول کر کے خرچ کر لیا ہے حالانکہ اُس نے خرچ نہیں کیا تو وہ جھوٹ بول کر اپنا نقصان آپ کرے گی۔ہمارا اس میں کیا نقصان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی موجود ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔مجھے یہ فکر ہے کہ اس روپیہ کو خرچ کرنے والے کہاں سے آئیں گے، سو روپیہ تو آتا ہی رہے گا چاہے دس لاکھ بھی ایسی عورت ہو جو مہر لے کر خرچ کر چکی ہو، روپیہ بہر حال آنا ہے اور اس مقدار میں آنا ہے کہ ہمیں یہ فکر ہوگی کہ ہم وہ آدمی کہاں سے لائیں جو اس روپیہ کو مناسب طور پر خرچ کریں۔پس جو قانون بنتا ہے بناؤ اور باقی چیزیں خدا پر چھوڑ دو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ اُسے بھی دھوکا دینے کی