خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 50

خطابات شوری جلد سوم کرنا تھا وہ کر لیا۔مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء تو ہماری فتح یقینی اور قطعی ہے کیونکہ اُس وقت یہ سوال ہی نہیں ہو گا کہ اُن کو سلسلہ کی طرف سے ملتا کیا ہے بلکہ وہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے دیوانہ وار نکل کھڑے ہوں گے اور ہر قربانی کے لئے شرح صدر سے تیار ہوں گے۔انہیں اگر پہاڑوں کی چوٹی سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ ہر پہاڑ سے گرنے کے لئے تیار ہوں گے، انہیں اگر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہوں گے، انہیں اگر اپنے آپ کو جلتی ہوئی آگ میں جھونکنے کے لئے کہا جائے گا تو وہ ہر جلتی آگ میں اپنے آپ کو بھسم کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ایسے لوگ اگر پانچ ہزار ہماری جماعت میں پیدا ہو جائیں تو فتح کا سوال ایک آن میں حل ہو جائے اور کفر کی شوکت دیکھتے ہی دیکھتے خاک میں مل جائے مگر چونکہ ابھی تک جماعت کے لوگ اس بلند معیار تک نہیں آئے اس لئے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں کہنا چاہئے کہ پانچ ہزار سپاہی اگر اُن سامانوں کے ساتھ آگے آئیں جن سے ادنی درجہ کی تبلیغ ساری دنیا میں کی جاسکتی ہے تو اس کے لئے دو کروڑ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی مگر یہ اتنی بڑی مالی قربانی ہے جو جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک لمبے وقت کا مطالبہ کرتی ہے لیکن وقت کے لمبا ہونے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کام کو شروع بھی نہ کیا جائے۔اگر ہم اعلی پیمانہ پر اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتے تو ادنی پیمانہ پر تو اس کام کو شروع کر سکتے ہیں۔اگر ہم اس کام کو شروع کر دیں اور ادنی ادنیٰ قربانیوں میں دلی شوق کے ساتھ حصہ لیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ایک دن ہمیں بڑی قربانیوں میں حصہ لینے کی بھی توفیق عطا فرما دے گا۔ایک قربانی دوسری قربانی کی محرک ہوتی ہے میں بار بار بتا چکا ہوں کہ ایک قربانی دوسری قربانی کی محرک ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے جس کے خلاف تم کبھی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ جب ایک نیکی کی جاتی ہے تو وہ دوسری نیکی کی محرک بن جاتی ہے۔پس اگر ہم سچے دل کے ساتھ ادنی درجہ کی مالی قربانیوں میں حصہ لیں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق عطا فرما دے گا کہ وہ اعلیٰ درجہ کی مالی قربانیوں میں بھی حصہ لے اور اُن ذمہ واریوں کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ کی