خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 49
خطابات شوری جلد سوم ۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ہو جائیں گے۔اس حدیث کے مختلف لوگ مختلف معنے کرتے ہیں مگر اصل معنے اس کے یہی ہیں کہ اعمال تابع ہیں انسانی نیات کے۔جب کوئی قوم ایک کام کی نیت کر لیتی ہے تو پھر اس قوم کے افراد اُس کام کو بہر حال کر لیتے ہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ سچی نیت اور ارادہ کے باوجود کوئی کام نہ ہو۔وہ نیت ہزاروں اعمال کا موجب ہوتی ہے اس لئے کہ وہ نیک نیت خدا کی نیت سے مل جاتی ہے اور جب خدا اور بندے دونوں کی نیتیں مل جائیں تو کام رُک نہیں سکتا۔یہ وہی بات ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں بیان فرمائی کہ ے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ بندہ نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل کر لیتا ہے کہ خدا اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے، اُس کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے، اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے، اُس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سُنتا ہے یا غرض جب مومن سچی نیت کرلے تو کوئی چیز دنیا کی ایسی نہیں ہو سکتی جو اس کام کو ٹلا سکے کیونکہ اُس کی زبان خدا کی زبان اور اس کی نیت خدا کی نیت ہوتی ہے اور جو بات خدا کی زبان سے نکل جائے وہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ھے ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے کبھی ٹل نہیں سکتی۔پس اصل بات یہ ہے کہ پانچ ہزار مبلغین کا مہیا ہونا ہمارے لئے ہرگز کوئی مشکل امر نہیں مگر اس کے لئے جماعت کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہئے جس راستہ کو اختیار کرنے کی ہدایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام دے چکے ہیں۔اگر اسی قسم کے لوگ ہمارے سلسلہ میں پیدا ہو جائیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ : - اگر ہماری جماعت میں چالیس آدمی بھی ایسے مضبوط رشتہ کے ہوں جو رنج و راحت، عسر وئیر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کریں تو ہم جان لیں کہ ہم جس مطلب کے لئے آئے تھے وہ پورا ہو چکا اور جو کچھ