خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 47

خطابات شوری جلد سوم ۴۷ مشاورت ۱۹۴۴ء کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ اے خدا! میں تیرے مسیح کی نعش کے پاس کھڑے ہو کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی اس سلسلہ سے منحرف ہو جائے تب بھی میں اکیلا اس کام کو جاری رکھوں گا جس کام کے لئے تُو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تھا۔اُس موقع کے لحاظ سے اور اس مصیبت عظمی کے لحاظ سے جو جماعت پر اُس وقت آئی میرا اس قسم کا عہد کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو مجھے اپنی زندگی کے نہایت ہی شاندار کارناموں میں سے ایک سنہری کارنامہ نظر آتا ہے اور میں خدا تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے اپنے فضل سے مجھے ہمیشہ اس عہد کو نباہنے کی توفیق عطا فرمائی۔اسی سے ملتا جلتا واقعہ ایک صحابی کا بھی ہے جو مجھے نہایت پیارا معلوم ہوتا ہے اور جسے میں بار بار اپنی تقریروں اور خطبات میں بیان کر چکا ہوں۔جب بدر کی جنگ ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس غرض کے لئے مدینہ سے باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے صحابہ کو یہ بتایا نہیں تھا کہ ہم ایک جنگ پر جا رہے ہیں۔صحابہ کا خیال یہ تھا کہ صرف شام سے آنے والے قافلہ کو روکا جائے گا مگر جب عین بدر کے مقام پر پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اکٹھا کیا کہ الہی منشاء یہ ہے کہ ہماری اس مقام پر کفار سے جنگ ہو اس لئے بتاؤ اب تمہاری کیا رائے ہے؟ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا مہاجر اُٹھنا شروع ہوا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں ہمیں جنگ کرنے میں ہر گز کوئی عذر نہیں مگر جب بھی کوئی مہاجر مشورہ دے کر بیٹھ جاتا آپ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔آخر جب آپ نے بار بار یہ بات کہی تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی مراد شاید ہم انصار سے ہے کہ ہم اس موقع پر اپنی رائے کا اظہار کریں کیونکہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے اور ایک کے بعد دوسرا مہاجر کہہ رہا ہے کہ ہم جنگ کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کا یہ بار بار فرمانا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو بتاتا ہے کہ آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں درست ہے۔اس پر اُس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! ہم تو اس لئے چُپ تھے کہ جن سے لڑائی ہونی ہے وہ ان مہاجرین کے رشتہ دار ہیں۔اگر ہم نے کہا کہ ہم اُن کا سر پھوڑنے کے لئے تیار ہیں تو مہاجرین کے دلوں کو تکلیف ہو گی کہ دیکھو!