خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 48

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء یہ انصار ہمارے بھائیوں اور بھتیجوں اور دوستوں اور رشتہ داروں کا گلا کاٹنے کے لئے تیار ہورہے ہیں مگر اب جبکہ آپ ہم سے مشورہ پوچھتے ہیں تو یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن اُس وقت تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کا اشارہ شاید اُس معاہدہ کی طرف ہے جو آپ کی مدینہ میں تشریف آوری کے موقع پر ہم نے کیا تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو ہم ساتھ نہیں دیں گے۔یا رسول اللہ ! یہ اُس وقت کی باتیں ہیں جب ہم پر آپ کی حقیقت پوری طرح نہیں کھلی تھی مگر اب جبکہ ہمیں پتہ لگ چکا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے اور آپ کسی عظمت اور شان کے رسول ہیں تو اب کسی شرط کا سوال نہیں۔سامنے سمندر تھا اُس کی طرف اشارہ کر کے وہ صحابی کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ اگر ہمیں حکم دیں تو ہم اس سمندر میں اپنے گھوڑے ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور ہر اُس خدمت کے لئے تیار ہیں جس کا آپ کی طرف سے ہمیں حکم ملے یا ایک دوسرے صحابی کہتے ہیں۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئی جنگوں میں شامل ہوا مگر میری ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ کاش میں ان جنگوں میں شامل نہ ہوتا اور یہ فقرہ میرے منہ سے نکل جاتا ہے اب دیکھو با وجود اس کے کہ اس فقرہ کے کہنے میں بظاہر اُس صحابی کو کوئی قربانی نہیں کرنی پڑی ، کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑی۔ایک اور شخص کہہ سکتا ہے کہ محض جذباتی رنگ میں ایک بات کہہ دی گئی ہے مگر جس ایمان اور اخلاص اور محبت اور ایثار اور قربانی کی روح کے ساتھ یہ الفاظ اُس صحابی کی زبان سے نکلے تھے وہ ہزاروں اعمال سے زیادہ وزنی، وہ ہزاروں اعمال سے زیادہ شاندار تھی، وہ ہزاروں اعمال سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کی برکت کو جذب کرنے والی تھی اُن اعمال سے جن میں محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے، تکلیف زیادہ اُٹھانی پڑتی ہے، قربانی زیادہ کرنی پڑتی ہے۔تو اصل چیز جس سے روحانی کام سرانجام پاتے ہیں نیت اور ارادہ کی درستی ہے۔یہی وہ حکمت ہے جس کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔الأَعْمَالُ بالنِّيَّاتِ ١٢ عمل چیز ہی کیا ہیں تم پکی نیت کر سکو تو عمل آپ ہی آپ پیدا ہونے شروع